ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

کورونا نام کی کوئی بیماری نہیں، لاہور ہائی کورٹ نے کورونا کو نہ ماننے والے شہری کو سخت سزا سنا دی

datetime 22  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے کورونا وائرس کا وجود نہ ہونے کا دعوی کرنے والے درخواست گزار پر بے بنیاد درخواستیں دائر کرنے پر دولاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کورونا وائرس کا وجود نہ ہونے سے

متعلق شہری اظہر عباس کی دائر درخواست پرسماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ  کورونا وائرس سے متعلق تمام دستاویزات آئندہ سماعت پر پیش کردیں گے۔اس موقع پر درخواست گزار نے کہا کہ میں نے درخواست دائر کررکھی ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی وجود نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت کو بھی لکھا ہے کہ کورونا وجود نہیں، میرا موقف سنا جائے۔ہاتھ لگانے سے یا کسی کو ملنے سے کورونا نہیں پھیلتا اور یہ ثابت کرنے کو تیار ہوں۔چیف جسٹس قاسم خان نے درخواست گزار کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ موجودہ وبا ء کا علاج نہ ہو، جس پر شہری نے جواب دیا کہ ایسی بات نہیں ہے، کہتا ہوں کہ کورونا کا وجود ہی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی بات نہیں مانی جاسکتی کسی ماہرکی بات کریں۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی لیکن وہاں سے بھی ان کی کورونا کے متعلق درخواست خارج ہوئی ہے۔چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ آپ کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے رہا ہوں۔چیف جسٹس نے بے بنیاد درخواستیں دائر کرنے پر درخواست گزار پر دولاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے حکم دیا کہ جرمانہ ریونیو ایکٹ کے تحت وصول کیا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…