جمعرات‬‮ ، 30 جولائی‬‮ 2026 

اٹلی ایمبیسی میں کام کرنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ فراڈ کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

datetime 4  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے اٹلی ایمبیسی میں کام کرنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ فراڈ کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظورکرتے ہوئے ملزم چوہدری آصف کو پولیس تفتیش میں شامل ہونے کا حکم دیدیا۔گذشتہ روز درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کے دوران متاثرہ خاتون کے وکیل نے کہاکہ2013 میں مجھے

میرے موبائل پر کال آئی اور کہا میں کرنل ابرار کا سٹاف افسر ہوں،خاتون کو 26 نمبر چونگی بلا کر ویری فیکیشن کا کہا گیا اور ملزم نے دو لاکھ روپے لیے، مختلف اوقات میں ملزم چوہدری آصف نے خاتون سے 75 لاکھ سے زائد کی رقم لی،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ تفتیشی افسر صاحب آپ نے اب تک کیا تفتیش کی ہے،جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایاکہ ملزم عبوری ضمانت کے بعد شامل تفتیش ہی نہیں ہوا،عدالت نے استفسار کیاکہ 75 لاکھ روپے کسی سرکاری ملازم کو کوئی کیوں دیگا،تفتیشی افسر نے کہاکہ ملزم نے خود کو سرکاری افسر بتایا اور خاتون نے رقم دیدی،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ بھی سرکاری ملازم ہیں کسی پارٹی سے 75 لاکھ روپے لیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیسا کیس ہے کیسی باتیں کر رہے ہیں،ایک سرکاری افسر کسی سے پیسے مانگے تو وہ جرم ہے،درخواست میں یہ ہی نہیں لکھا گیا کہ کس مقصد کیلئے رقم دی گئی،تفتیشی افسر کو دیکھنا چاہیے تھا کہ رقم کیوں دی گئی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیاکہ 2013 میں انہوں نے 2 لاکھ روپے کی رقم کیوں دی،متاثرہ خاتون کے وکیل نے بتایاکہ ویری فکیشن کیلئے خاتون سے رقم لی گئی،چیف جسٹس نے کہاکہ سرکاری ملازم اگر کسی سے رقم کا مطالبہ کرے تو اسکی تو شکایت کی جانی چاہیے،75 لاکھ روپے کوئی کسی کو دیتا ہے، تفتیشی افسر نے کہاکہ چوہدری آصف خود مان رہا ہے کہ مجھے مختلف اوقات میں رقم دی گئی،وکیل نے کہاکہ مکان کی خریداری کیلئے چوہدری آصف کو رقم دی گئی،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو دو فریقین کے درمیان کا معاملہ ہے اس میں فوجداری کیس کہاں سے آ گیا، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ چوہدری آصف کس محکمے میں کام کرتا ہے،وکیل نے بتایاکہ وہ ایک پرائیویٹ بندہ ہے کسی محکمے میں کام نہیں کرتا، تفتیشی افسر نے کہاکہ چوہدری آصف نے کہا کہ میں 20 لاکھ روپے کی رقم دونگا،خاتون پوری رقم کا مطالبہ کر رہی ہیں،دلائل سننے کے بعد عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات جاری کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…