جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

اٹلی ایمبیسی میں کام کرنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ فراڈ کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

datetime 4  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے اٹلی ایمبیسی میں کام کرنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ فراڈ کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظورکرتے ہوئے ملزم چوہدری آصف کو پولیس تفتیش میں شامل ہونے کا حکم دیدیا۔گذشتہ روز درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کے دوران متاثرہ خاتون کے وکیل نے کہاکہ2013 میں مجھے

میرے موبائل پر کال آئی اور کہا میں کرنل ابرار کا سٹاف افسر ہوں،خاتون کو 26 نمبر چونگی بلا کر ویری فیکیشن کا کہا گیا اور ملزم نے دو لاکھ روپے لیے، مختلف اوقات میں ملزم چوہدری آصف نے خاتون سے 75 لاکھ سے زائد کی رقم لی،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ تفتیشی افسر صاحب آپ نے اب تک کیا تفتیش کی ہے،جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایاکہ ملزم عبوری ضمانت کے بعد شامل تفتیش ہی نہیں ہوا،عدالت نے استفسار کیاکہ 75 لاکھ روپے کسی سرکاری ملازم کو کوئی کیوں دیگا،تفتیشی افسر نے کہاکہ ملزم نے خود کو سرکاری افسر بتایا اور خاتون نے رقم دیدی،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ بھی سرکاری ملازم ہیں کسی پارٹی سے 75 لاکھ روپے لیں گے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیسا کیس ہے کیسی باتیں کر رہے ہیں،ایک سرکاری افسر کسی سے پیسے مانگے تو وہ جرم ہے،درخواست میں یہ ہی نہیں لکھا گیا کہ کس مقصد کیلئے رقم دی گئی،تفتیشی افسر کو دیکھنا چاہیے تھا کہ رقم کیوں دی گئی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیاکہ 2013 میں انہوں نے 2 لاکھ روپے کی رقم کیوں دی،متاثرہ خاتون کے وکیل نے بتایاکہ ویری فکیشن کیلئے خاتون سے رقم لی گئی،چیف جسٹس نے کہاکہ سرکاری ملازم اگر کسی سے رقم کا مطالبہ کرے تو اسکی تو شکایت کی جانی چاہیے،75 لاکھ روپے کوئی کسی کو دیتا ہے، تفتیشی افسر نے کہاکہ چوہدری آصف خود مان رہا ہے کہ مجھے مختلف اوقات میں رقم دی گئی،وکیل نے کہاکہ مکان کی خریداری کیلئے چوہدری آصف کو رقم دی گئی،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو دو فریقین کے درمیان کا معاملہ ہے اس میں فوجداری کیس کہاں سے آ گیا، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ چوہدری آصف کس محکمے میں کام کرتا ہے،وکیل نے بتایاکہ وہ ایک پرائیویٹ بندہ ہے کسی محکمے میں کام نہیں کرتا، تفتیشی افسر نے کہاکہ چوہدری آصف نے کہا کہ میں 20 لاکھ روپے کی رقم دونگا،خاتون پوری رقم کا مطالبہ کر رہی ہیں،دلائل سننے کے بعد عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات جاری کردی۔



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…