پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

قونصل جنرل جاپان کا کراچی سرکلر ٹرین پر سفر سروس کو کیسا پایا؟کھل کربول پڑے

datetime 2  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)قونصل جنرل جاپان برائے کراچی توشی کازو ایسومورا نے کراچی میں حال ہی میں سروس کا آغاز کرنے والے سرکلر ریلوے منصوبے کا دورہ کیا ہے، انہوں نے ٹرین پر سفر کیا اور سالوں بعد کے سی آر کا پہیہ چلنے پر خوشی کا اظہار کیا۔مسٹر توشی کازو ایسومورا4 سال سے زائد عرصے سے کراچی میں قونصل جنرل جاپان تعینات ہیں،

وہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں ہیں اور یہاں کے معاشرتی، سیاسی اور معاشی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔اردو زبان پر عبور رکھنے والے جاپانی سفارت کار کو شہر کے دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے میں گہری دلچسپی رہی ہے۔مسٹر توشی کازو ایسومورا گزشتہ دنوں کراچی سرکلر ٹرین چلنے کی خبروں پر پرمسرت نظر آئے، وہ کے سی آر کا پہیہ چلتے ہی ٹرین پر سفر کرنے کیلئے بے چین تھے۔مسٹر ایسومورا گزشتہ شام کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے اور ٹکٹ کاؤنٹر سے از خود شام 5 بجے روانگی کیلئے تیار لوکل ٹرین کا ٹکٹ خریدا۔قونصل جنرل نے ریلوے ٹکٹ کلکٹر سے ٹرین کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور پلیٹ فارم پر روانگی کیلئے تیار کراچی سرکلر ٹرین کا معائنہ کیا۔انہوں نے ٹرین کی تصاویر بنائیں، ٹرین کے انجن کی تصویر بناتے ہوئے انہیں ٹرین کی روانگی کا وقت ہونے کا احساس ہوا تو وہ بھاگ کر ٹرین میں سوار ہوگئے۔ٹرین 2 منٹ تاخیر سے شام 5 بجکر 2 منٹ پر سٹی اسٹیشن سے پیپری ریلوے اسٹیشن کیلئے روانہ ہوئی تو وہ مطمئن ہو گئے۔قونصل جنرل جاپان نے ٹرین میں گھوم پھر کر بوگیوں کی کوالٹی چیک کی اور واش روم بھی استعمال کیا۔قونصل جنرل جاپان کینٹ اسٹیشن پر ٹرین سے اتر گئے اور اسٹیشن سے باہر نکلتے وقت کے سی آر پر سفر کا ٹکٹ یادگار کے طور پر اپنے ساتھ رکھ لیا۔جاپانی قونصل جنرل مسٹر توشی کازو ایسومورو نے کے سی آر چلانے کی پاکستان ریلوے کی کوشش کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے بند کراچی سرکلر ٹرین چل پڑی ہے، یہ دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی ہے۔قونصل جنرل جاپان نے بتایا کہ چونکہ انفرا اسٹرکچر مکمل کئے بغیر ہی ٹرین چلائی گئی ہے اس لئے منصوبے میں ابھی کچھ خامیاں ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وقت کے ساتھ سروس میں بہتری آ جائے گی۔قونصل جنرل توشی کازو ایسومورو نے کراچی سرکلر ریلوے کے زیرِ تکمیل ٹریک کا بھی دورہ کیا۔قونصل جنرل نے ناظم آباد میں کے سی آر کے اورنگی اسٹیشن پر جاری تعمیراتی کام دیکھا اور سائٹ، لیاری اور وزیر مینشن ریلوے اسٹیشنوں کے کام کا بھی جائزہ لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…