اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

آپ یہاں لندن میں پچھلے 3سال سے مقیم ہیں کیا آپ کا علاج چل رہا ہے ،پاکستان اور لندن میں کتنی پراپرٹی ہے ؟ صحافی کے سوال پر سابق وزیر خزانہ نے کیا جواب دیا 

datetime 1  دسمبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اْن کی صرف ایک پراپرٹی ہے جو پاکستان میں ہے اور حکومت نے چھین لی ہے، لندن میں کوئی جائیداد نہیں، بچوں کا صرف ایک وِلا ہے جو اْن کی ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے

اسحاق ڈار نے کہا کہ ان کے اور خاندان کے پاس صرف ایک ہی جائیداد ہے۔پروگرام میں میزبان نے دبئی میں جائیداد سے متعلق سوال کیا تو اسحق ڈار نے کہا کہ وہ وِلا تو ان کے بچوں کا ہے اور وہ بالغ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان کے بچے دبئی میں 17 سال سے کاروبار کر رہے ہیں ان کا اس جائیداد سے کوئی تعلق نہیں۔پروگرام کے میزبان نے سوال کیا کہ اگر آپ کہتے ہیں پوری دنیا میں آپ کی صرف ایک جائیداد ہے اور وہ بھی ٹیکس دستاویز میں ڈکلیئر ہے تو آپ پاکستان جا کر کیسز کا سامنا کیوں نہیں کرتے۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ ان کے وکیل عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں اور وہ لندن میں علاج کے لیے موجود ہیں۔میزبان نے سال کیا کہ آپ تو یہاں لندن میں تین سال سے مقیم ہیں، کیا آپ کا علاج اب بھی چل رہا ہے؟ جس پر اسحق ڈار نے کہا کہ جی ہاں میرا علاج اب بھی چل رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سب کے سامنے ہے، نیب کی حراست میں اب تک کئی ملزمان کو قتل کیا جاچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…