جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

گھر کے حصو ل کیلئے قرض حاصل کرنے والوں پرآمدن کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی، اہم اعلان

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سیما کامل نے کہا ہے کہ کم آمدنی والے لوگوں کیلئے اپنے گھر کے خواب کی تکمیل کیلئے قرض کی شرائط کو انتہائی نرم رکھا گیا ہے ، جن لوگوں کے پاس اپنی آمدن ثابت کرنے کیلئے موثر دستاویزات نہیں ہوںگی ان کیلئے پراکسی استعمال ہو گی جس کے تحت ان کے یوٹیلٹی بلز ، موبائل فون کے استعمال اور بچوں کی سکول فیسوں سے جائزہ لیا

جائے گا ، کوشش ہے کہ اس سکیم میں انشورنس کی سہولت بھی ہو جائے اور یہ بھی کوشش ہے کہ اس کا بوجھ قرض لینے والے پر نہ ہو ،حکومت اس سکیم میں مارک اپ کی شرح کو کم کرنے کیلئے سبسڈی دے گی اور حکومت نے 33ارب روپے مختص کر دئیے ہیں۔ایک انٹر ویو میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سیماکامل نے کہا کہ قرض کے حصول کے لئے درخواست دینے والوںسے کہوںگی کہ اگر انہوں نے گھر خریدنا ہے یا گھر بناناہے تو اس کیلئے مکمل ہوم ورک کر کے جائیں ، ویسے بینک بھی آپ کی معاونت کریںگے لیکن اس ہوم ورک سے درخواست دہندہ کو بہت سے چیزیں سمجھنے میںمدد ملے گی ۔انہوںنے کہاکہ درخواست دینے کے لئے آمدن کی قطعا کوئی شرط نہیںہے ، ایک گھر میں رہنے والے اپنی آمدن اکٹھی کر کے بھی بتا سکتے ہیں ۔اگر کوئی لاکھ دس لاکھ قرض لیتا ہے تو وہ پہلے سال 6600،دوسرے سال 7500اور تیسرے سال 9ہزار روپے تک قسط ہو گی ۔ انہوںنے بتایا کہ سکیم کے بعد اب تک 80کروڑ کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے ۔ ہماری کوشش ہے کہ نئے گھر بنیں کیونکہ اس سے معیشت کو بھی عروج ملے گا ۔ انہوںنے ڈیفالٹ کرنے کی صورت میں کارروائی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہاکہ نہ صرف بینک بلکہ قرض لینے کو بھی تحفظ دیا گیا ہے ۔اگر کوئی شخص بیمار ہو جاتا ہے یا خدانخواستہ اس کی نوکری چلی جاتی ہے تو اس کیلئے

بھی ٹائم پیریڈ ہوگا ۔ کوئی بھی شخص پانچ سال تک گھر فروخت نہیںکر سکتا اور گھر کی دستاویزات بینک کے پاس ہوں گی ۔ڈیفالٹ کرنے کی صورت میںنوٹسز دئیے جائیں گے اور نوٹسز کے اجرا میں وقفہ ہوگا ایسا نہیں ہوگا کہ آج نوٹس دیا اور کل آکر گھر سے نکال دیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…