اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

کیس کی سماعت سے ایک دن پہلے مدعی سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے گھر پہنچ گیا پھر کیا ہوا؟ عدالت عظمیٰ نے زبردست فیصلہ سنا دیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سائل کا سپریم کورٹ جج کے گھر ملنے کا معاملہ،سائل کی جانب سے سپریم کورٹ جج کو گھر پر اپروچ کرنے پر عدالت برہم ہوگئی ۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ اس

کیس میں کامران بنگش کون ہے،کیا آپ سمجھتے ہیں عدالتیں انصاف نہیں کرتیں ؟۔ درخواست گزارکامران بنگش نے کہاکہ میں نے صرف میرٹ پر ہی فیصلہ کرنے کی استدعا کی تھی۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ دو خاندانوں کے جھگڑے کی وجہ سے چاہتے تھے معاملہ حل ہو جائے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی آپکو جیل بھیجیں گے تو آپکو میرٹ پر فیصلے کا معلوم ہوگا،میں تو سمجھا میراکامران نامی کزن ملنے آیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک گھنٹہ درخواست گزار میرے ڈرائنگ روم میں بیٹھا رہا۔ وکیل کامران نے کہاکہ بچہ ہے غلطی پر معافی مانگتا ہوں۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ کوئی ان پڑھ ایسا کرتا تو معاف کردیتے،میں ڈرائنگ روم آیا تو اس نے مجھے کہا میرا کل اپکے پاس کیس ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ کوئی درخواست گزار ایسے جج کو ملنے کی جرات کیسے کر سکتا ہے،جج سے ملنے کی بات اس کے ذہن میں کیسے آئی۔ انہوں نے کہاکہ انجینئرنگ گریجویٹ شخص جیل جائے گا تو جج سے ملنے کا

معلوم ہوگا۔کامران بنگش اور والد رحمان بنگش کی جانب سے معافی کی استدعا کی گئی ۔عدالت نے کامران بنگش کو فوری ایک لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ جسٹس عمر عطاء بندال نے کہاکہ آج ہی جرمانہ ادا ہوگا یا جیل جائو گے۔والد کی جانب سے آج بدھ تک مہلت کی استدعا

مسترد کر دی گئی ،عدالت نے جرمانہ ادا کرنے تک کامران بنگش کو باہر نہ نکلنے کا حکم دیدیا ،عدالت نے ملزم کامران بنگش کی غیر مشروط معافی قبول کرلی۔ عدالت نے کہاکہ کیس کے ایک فریق کامران بنگش نے جج کو اپروچ کرنے کی کوشش کی، ملزم نے خود کو عدالت کے

سامنے سرنڈر کیا، ملزم نے عدالت سے غیر مشروط طور پر معافی مانگی، ملزم نوجوان ہے اور اس کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے توہین عدالت کی کاروائی نہیں کی جا رہی۔ عدالت نے کہاکہ ملزم کی غیر مشروط معافی قبول کی جاتی ہے تاہم ملزم کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ایدھی فاؤنڈیشن

میں جمع کروانا ہوگا، ملزم کے والد نے ایک لاکھ جرمانہ کی رقم عدالت میں جمع کروا دی۔ ملزم نے کہاکہ میں اپنے آپ کو کورٹ کے حوالے کرتا ہوں اور رحم کی بھیک مانگتا ہوں، جسٹس مظاہر عالم میاں خیل نے کہاکہ ملزم کے مستقبل اور عمر کو دیکھتے ہوئے جیل نہیں بھیج رہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ آپ کو عدالت کے وقار کا احترام کرنا ہوگا، بعض صورتوں میں ملزم کو جیل بھیجنا قابل اصلاح نہیں ہوتا۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…