جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

کیس کی سماعت سے ایک دن پہلے مدعی سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے گھر پہنچ گیا پھر کیا ہوا؟ عدالت عظمیٰ نے زبردست فیصلہ سنا دیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سائل کا سپریم کورٹ جج کے گھر ملنے کا معاملہ،سائل کی جانب سے سپریم کورٹ جج کو گھر پر اپروچ کرنے پر عدالت برہم ہوگئی ۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ اس

کیس میں کامران بنگش کون ہے،کیا آپ سمجھتے ہیں عدالتیں انصاف نہیں کرتیں ؟۔ درخواست گزارکامران بنگش نے کہاکہ میں نے صرف میرٹ پر ہی فیصلہ کرنے کی استدعا کی تھی۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ دو خاندانوں کے جھگڑے کی وجہ سے چاہتے تھے معاملہ حل ہو جائے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی آپکو جیل بھیجیں گے تو آپکو میرٹ پر فیصلے کا معلوم ہوگا،میں تو سمجھا میراکامران نامی کزن ملنے آیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک گھنٹہ درخواست گزار میرے ڈرائنگ روم میں بیٹھا رہا۔ وکیل کامران نے کہاکہ بچہ ہے غلطی پر معافی مانگتا ہوں۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ کوئی ان پڑھ ایسا کرتا تو معاف کردیتے،میں ڈرائنگ روم آیا تو اس نے مجھے کہا میرا کل اپکے پاس کیس ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ کوئی درخواست گزار ایسے جج کو ملنے کی جرات کیسے کر سکتا ہے،جج سے ملنے کی بات اس کے ذہن میں کیسے آئی۔ انہوں نے کہاکہ انجینئرنگ گریجویٹ شخص جیل جائے گا تو جج سے ملنے کا

معلوم ہوگا۔کامران بنگش اور والد رحمان بنگش کی جانب سے معافی کی استدعا کی گئی ۔عدالت نے کامران بنگش کو فوری ایک لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ جسٹس عمر عطاء بندال نے کہاکہ آج ہی جرمانہ ادا ہوگا یا جیل جائو گے۔والد کی جانب سے آج بدھ تک مہلت کی استدعا

مسترد کر دی گئی ،عدالت نے جرمانہ ادا کرنے تک کامران بنگش کو باہر نہ نکلنے کا حکم دیدیا ،عدالت نے ملزم کامران بنگش کی غیر مشروط معافی قبول کرلی۔ عدالت نے کہاکہ کیس کے ایک فریق کامران بنگش نے جج کو اپروچ کرنے کی کوشش کی، ملزم نے خود کو عدالت کے

سامنے سرنڈر کیا، ملزم نے عدالت سے غیر مشروط طور پر معافی مانگی، ملزم نوجوان ہے اور اس کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے توہین عدالت کی کاروائی نہیں کی جا رہی۔ عدالت نے کہاکہ ملزم کی غیر مشروط معافی قبول کی جاتی ہے تاہم ملزم کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ایدھی فاؤنڈیشن

میں جمع کروانا ہوگا، ملزم کے والد نے ایک لاکھ جرمانہ کی رقم عدالت میں جمع کروا دی۔ ملزم نے کہاکہ میں اپنے آپ کو کورٹ کے حوالے کرتا ہوں اور رحم کی بھیک مانگتا ہوں، جسٹس مظاہر عالم میاں خیل نے کہاکہ ملزم کے مستقبل اور عمر کو دیکھتے ہوئے جیل نہیں بھیج رہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ آپ کو عدالت کے وقار کا احترام کرنا ہوگا، بعض صورتوں میں ملزم کو جیل بھیجنا قابل اصلاح نہیں ہوتا۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی گئی ۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…