اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

کیس کی سماعت سے ایک دن پہلے مدعی سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظہر عالم میاں خیل کے گھر پہنچ گیا پھر کیا ہوا؟ عدالت عظمیٰ نے زبردست فیصلہ سنا دیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)سائل کا سپریم کورٹ جج کے گھر ملنے کا معاملہ،سائل کی جانب سے سپریم کورٹ جج کو گھر پر اپروچ کرنے پر عدالت برہم ہوگئی ۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ اس

کیس میں کامران بنگش کون ہے،کیا آپ سمجھتے ہیں عدالتیں انصاف نہیں کرتیں ؟۔ درخواست گزارکامران بنگش نے کہاکہ میں نے صرف میرٹ پر ہی فیصلہ کرنے کی استدعا کی تھی۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ دو خاندانوں کے جھگڑے کی وجہ سے چاہتے تھے معاملہ حل ہو جائے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی آپکو جیل بھیجیں گے تو آپکو میرٹ پر فیصلے کا معلوم ہوگا،میں تو سمجھا میراکامران نامی کزن ملنے آیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک گھنٹہ درخواست گزار میرے ڈرائنگ روم میں بیٹھا رہا۔ وکیل کامران نے کہاکہ بچہ ہے غلطی پر معافی مانگتا ہوں۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ کوئی ان پڑھ ایسا کرتا تو معاف کردیتے،میں ڈرائنگ روم آیا تو اس نے مجھے کہا میرا کل اپکے پاس کیس ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ کوئی درخواست گزار ایسے جج کو ملنے کی جرات کیسے کر سکتا ہے،جج سے ملنے کی بات اس کے ذہن میں کیسے آئی۔ انہوں نے کہاکہ انجینئرنگ گریجویٹ شخص جیل جائے گا تو جج سے ملنے کا

معلوم ہوگا۔کامران بنگش اور والد رحمان بنگش کی جانب سے معافی کی استدعا کی گئی ۔عدالت نے کامران بنگش کو فوری ایک لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ جسٹس عمر عطاء بندال نے کہاکہ آج ہی جرمانہ ادا ہوگا یا جیل جائو گے۔والد کی جانب سے آج بدھ تک مہلت کی استدعا

مسترد کر دی گئی ،عدالت نے جرمانہ ادا کرنے تک کامران بنگش کو باہر نہ نکلنے کا حکم دیدیا ،عدالت نے ملزم کامران بنگش کی غیر مشروط معافی قبول کرلی۔ عدالت نے کہاکہ کیس کے ایک فریق کامران بنگش نے جج کو اپروچ کرنے کی کوشش کی، ملزم نے خود کو عدالت کے

سامنے سرنڈر کیا، ملزم نے عدالت سے غیر مشروط طور پر معافی مانگی، ملزم نوجوان ہے اور اس کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے توہین عدالت کی کاروائی نہیں کی جا رہی۔ عدالت نے کہاکہ ملزم کی غیر مشروط معافی قبول کی جاتی ہے تاہم ملزم کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ایدھی فاؤنڈیشن

میں جمع کروانا ہوگا، ملزم کے والد نے ایک لاکھ جرمانہ کی رقم عدالت میں جمع کروا دی۔ ملزم نے کہاکہ میں اپنے آپ کو کورٹ کے حوالے کرتا ہوں اور رحم کی بھیک مانگتا ہوں، جسٹس مظاہر عالم میاں خیل نے کہاکہ ملزم کے مستقبل اور عمر کو دیکھتے ہوئے جیل نہیں بھیج رہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ آپ کو عدالت کے وقار کا احترام کرنا ہوگا، بعض صورتوں میں ملزم کو جیل بھیجنا قابل اصلاح نہیں ہوتا۔ بعد ازاں کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی گئی ۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…