اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شیریں مزاری کا میکرون کو نازیوں سے تشبیہ دینے پر فرانس کا پاکستان سے احتجاج، بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پیرس/اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کو نازیوں سے تشبیہ دینے کے بیان پر فرانس نے پاکستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے الفاظ کی تصحیح کرنے اور احترام کے ساتھ بات چیت کا راستہ اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔فرانس کے ترجمان برائے خارجہ امور نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے نفرت انگیز الفاظ

صریحاً جھوٹ، نفرت اور تشدد کے نظریے کا پرچار ہیں اور ایسی بہتان تراشی غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔ترجمان کے مطابق ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، پاکستانی سفارت خانے کو احتجاج ریکارڈ کرادیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پیرس میں پاکستان کے ناظم الامورکو فوری طور پر مذمت سیآگاہ کردیا ہے، پاکستان بیان کی فوری تصحیح کرے اور باہمی احترام کی بنیاد پر گفتگو کا راستہ اپنائے۔ خیال رہیکہ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے فرانسیسی صدر میکرون کے مسلمانوں سے متعلق رویے کو نازیوں کے یہودیوں سے روا رکھے سلوک سے تشبیہ دی تھی۔ شیریں مزاری نے ایک ویب سائٹ کی خبرٹوئٹ کی تھی جسے فرانس نے جھوٹا الزام قرار دیا ہے۔ٹوئٹ میں ویب سائٹ کے حوالے کے ساتھ شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ فرانسیسی صدر میکرون مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا، فرانس میں مسلمان بچوں کے لیے شناختی نمبر دینے کا فیصلے کیا گیا ہے ویسے ہی جیسے نازی جرمنی میں یہودیوں کو شناخت کے لیے اپنے لباس پر پیلے رنگ کا ستارہ پہننے پر مجبور کیا گیا تھا۔فرانسیسی حکومت اور پاکستان میں سفیرکی جانب سے خبر کو جھوٹا قرار دینے کے ردعمل کے بعد شیریں مزاری کاکہنا تھاکہ انہوں نے خبر کے لنک کا بھی دیا ہے، اگر وہ جھوٹ ہے تو میرے ٹوئٹ کو جھوٹا کہنے کے بجائے اس کو ٹھیک کروایا جائے۔

شیریں مزاری کا تھاکہ فرانس میں راہباؤں کو تو عوامی مقامات پر بھی مخصوص لباس پہننے کی اجازت ہے لیکن مسلمان خواتین حجاب نہیں کرسکتیں، کیا یہ واضح امتیاز برتنے کی نشانی نہیں؟بعد ازاں اپنے ایک اور ٹوئٹ میں شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ پاکستان میں فرانسیسی سفیر نے مجھے پیغام بھیجا ہے جس خبر کا ٹوئٹ میں حوالہ دیا تھا اسے شائع کرنے والوں نے درست کردیا ہے،

اسی لیے میں نے بھی اپنا ٹوئٹ حذف کردیا ہے۔خیال رہے کہ فرانس کیایک اسکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس واقعے اور اسی سے متعلق دیگرحملوں کے خلاف فرانسیسی سیکولرازم کی کھل کر حمایت کی اور متنازع بیانات بھی دیے جس کے بعد فرانس کو دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور مصنوعات کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…