جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے 50فیصد سے زیادہ کیسز کی بڑی وجہ سامنے آگئی

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی )کورونا وائرس کے بیشتر کیسز کا سبب وہ افراد ہوتے ہیں جن میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی)کی جانب سے جاری اپ ڈیٹ گائیڈ لائنز میں بتائی گئی۔سی ڈی سی کے مطابق یہی ایک مرکزی وجہ ہے جو فیس ماسک کا استعمال کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔

سی ڈی سی کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے بیشتر کیسز کی وجہ بغیر علامات والے مریض ہوتے ہیں۔بیان کے مطابق سی ڈی سی اور دیگر تخمینے کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ کیسز میں وائرس ایسے افراد سے دیگر میں منتقل ہوتا ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔بیان میں بتایا گیا کہ اس کا مطلب ہے کہ کم از کم 50 فیصد نئے کیسز کے پیچھے ایسے افراد ہوتے ہیں جن کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ دیگر تک اسے منتقل کررہے ہیں۔سی ڈی سی کے مطابق دیگر افراد تک وائرس منتقل کرنے والے 24 فیصد افراد میں کبھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ 35 فیصد میں کچھ دنوں بعد ظاہر ہوتی ہیں جبکہ 41 فیصد افراد علامات کا شکار ہونے کے بعد دیگر کو اس بیماری سے متاثر کرتے ہیں۔امریکی ادارے کا کہنا تھا کہ بیماری کے 5 دن بعد ایک مریض سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، اس تصور کو مدنظر رکھا جائے تو 59 فیصد کیسز کی وجہ ایسے افراد ہوتے ہیں، جن میں اس وقت تک علامات ظاہر نہیں ہوئی ہوتیں۔بیان میں بتایا گیا کہ یہ شرح 51 سے 70 فیصد تک ہوسکتی ہے۔امریکی ادارے نے رواں سال جولائی میں طبی جریدے پروسیڈنز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ایک تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا۔اس سے قبل طبی ادارے بغیر علامات والے مریضوں سے وائرس کی منتقلی کی شرح کے لیے اعدادوشمار بیان نہیں کرتے تھے۔امریکی ادارے نے بتایا کہ کسی متاثرہ فرد کے سانس لینے، بات کرنے،

کھانسی، چھینک یا گانے کے دوران منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات کسی کو بیمار کرنے کا مرکزی ذریعہ ہے۔بیان میں بتایا گیا کہ بات کرنے یا اونچی آواز میں گانے کے دوران زیادہ مقدار میں ایسے ذرات کو خارج کرتے ہیں۔سی ڈی سی نے بتایا کہ تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ 40 سے 45 فیصد کیسز کا باعث بغیر علامات والے مریض ہیں، جبکہ ایسے افراد جن میں علامات ظاہر ہوتی ہیں،

وہ بھی ان علامات ظاہر ہونے سے پہلے وائرس کو دیگر تک منتقل کرسکتے ہیں۔ادارے کے بقول کیسز کی شرح اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب کسی مریض میں وائرل لوڈ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور چونکہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں تو ایسے لوگوں کو علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ خود بیمار ہیں۔سی ڈی سی نے مزید بتایا کہ کپڑے کے فیس ماسکس لوگوں کو ان وائرل ذرات سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔سی ڈی سی نے گزشتہ دنوں اپنی گائیڈلائنز میں یہ بھی بتایا تھا کہ فیس ماسک کا استعمال لوگوں کو بڑے اور چھوٹے وائرل ذرات نگلنے سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…