ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

گلگت بلتستان کے عوام کس لیڈر کو ووٹ کرنے جا رہے ہیں؟ عوامی فیصلہ سامنے آگیا ، تمام سرویز میں حیران کن سرپرائز

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

گلگت (این این آئی/مانیٹرنگ ڈیسک )معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گِل نے کہا ہے کہ تمام سروے واضح کر رہے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام وزیر اعظم عمران خان کو ووٹ کرنے جا رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) بڑی لیڈ سے جیت رہی ہے،

گلگت بلتستان میں کیے گئے تمام سروے واضح ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام عمران خان کو ووٹ کرنے جا رہے ہیں۔شہباز گل نے اپنے ٹوئٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم صفدر اور بلاول زرداری نے یقینی ہار نظر آنے پر دھاندلی کے الزام لگانے شروع کر دیئے ہیں ۔واضح رہے کہ گیلپ سروے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام نے طویل موجودگی اور انتخابی مہم پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی اور ن لیگی قیادت کو مسترد کردیا۔ گلگت بلتستان میں صوبائی اتخابات کی تیاریاں عروج ہیں اور ملک کی تینوں بڑی نامور جماعتوں کے ساتھ ساتھ درجنوں چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیاں بھی انتخابی میدان موجود ہیں لیکن الیکشن میں کامیابی کےلیے جتنی رقم اور وسائل مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خرچ کررہی اس کے مطابق مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق بلاول کی گلگت بلتستان میں طویل موجودگی اور مریم نواز کی تیز انتخابی مہم کو مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے دونوں جماعتیں طویل اور مہنگی ترین مہم کے باوجود دونوں عوام کے دل میں جگہ بنانے میں ناکام رہے اسی لیے گلگت بلتستان کی عوام نے دونوں جماعتوں کو مسترد کرکے تحریک انصاف کو چن لیا۔گیلپ پاکستان، پلس کنسلٹنٹس کے تازہ سروے مطابق پی ٹی آئی مقبول ترین جماعت اور وزیراعظم عمران خان مقبول ترین رہنما ہیں۔قومی اخبارات نے ملک گیر ایڈیشنز میں سرویز کے نتائج چھاپ دیے، جس کے مطابق پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت چیئرمین بلاول بھٹو خود کررہے ہیں جبکہ ن لیگ کی جانب سے چلائی جانیوالی انتخابی مہم کی قیادت مریم نواز کے ہاتھ میں ہے اس کے باوجود پی ٹی آئی مقبولیت میں دونوں سے آگے ہے۔سروے میں رائے دہندگان کی اکثریت نے 15 نومبر کو پی ٹی آئی کو ووٹ دینےکے عزم کا اظہار کیا۔گیلپ سروے میں شریک افراد میں سے 42فیصد کی واضح اکثریت نے وزیراعظم کو قائد بتایا جبکہ محض 17 فیصد افراد نے بلاول، 15 فیصد نے مریم کو رہنما بتایا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…