کشمیر کا سقوط جان بوجھ کر کیا، آپ اس ایشو سے جان چھڑانا چاہتے تھے،خواجہ آصف کا دعویٰ

  جمعہ‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2020  |  23:02

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کشمیر کا سقوط جان بوجھ کر کیا، آپ اس ایشو سے جان چھڑانا چاہتے تھے،بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کے پاکستان نے بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ایک مثبت قدم اٹھایا ، اس کے نتائج کیا سامنے آئے،کشمیر کے ساتھ لائٹ بند کر کے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی شو کی گئی، یہرنگ بازی ہو رہی ہے ۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے ایک مرتبہ پھر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو


رہا کرنے کے پاکستان نے بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ایک مثبت قدم اٹھایا لیکن اس کے نتائج کیا سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ اس بھارتی پائلٹ کو رہا کر کے ہم نے جو سرمایہ کاری کی، اس سرمایہ کاری کے محاصل کی جو بات کی گئی تھی وہ ریٹرنز نہیں آئے بلکہ منفی ریٹرنز آئے۔انہوں نے کہاکہ کلبھوشن کو رہا کرنے کیلئے اور اسے باعزت گھر پہنچانے کیلئے آپ لوگ انتظامات کر رہے ہیں ، قانون سازی آپ کر رہے ہیں، سہولتیں آپ فراہم کر رہے ہیں اور ہمارے ذمے ڈال رہے ہیں، تھوڑا اپنے گریبان میں تو جھانکیں۔انہوں نے کہا کہ آپ نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا جو بڑا فیصلہ اٹھایا اس کی ہم نے اور پیپلز پارٹی نے حمایت کی، اس کے بعد ہوا کیا، آپ نے دعا کی کہ مودی جیت جائے، کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائیگا، بھارت کو خوش کرنے کی اس پالیسی کا نتیجہ سقوط کشمیر اور سقوط سری نگر ہوا۔انہوں نے کہاکہ باہر ایک گھڑی لگا دی گئی ہے سرینا کے بعد اور چار تصاویر ڈی چوک پر لگا دیتے ہیں، ہمارا کشمیر کے ساتھ صرف اتنا رشتہ باقی رہ گیا ہے کشمیر کے ساتھ، کل لائٹ بند کر کے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی شو کی گئی۔انہوں نے کہاکہ کہ یہ رنگ بازی ہو رہی ہے، ہم نے اس کا سقوط سوچ سمجھ کر کیا ہے، ہم اس ایشو سے جان چھڑاناچاہتے تھے، کشمیر کیساتھ جو کچھ ہوا ہے، ان حکمرانوں کو تاریخ معاف نہیں کرے گی، کشمیری لاک ڈاؤن میں آج ڈیڑھ سال ہو گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز جو دن گزرا اس کی یاد میں میرے حلقے میں، میرے ساتھ والے حلقے میں، سیالکوٹ میں جموں کے کشمیری ہیں جو اس تاریخ کو بارڈر کراس کرتے ہوئے ایک لاکھ کشمیری شہید ہوا، ہر گھر کے اندر شہیدہے، اینکر حامد میر کی نانی بارڈر کراس کرتے ہوئے لاپتہ ہوئیں، اس کے بعد نہیں ملیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ لوگوں نے کشمیر سے یہاں آنے کیلئے خون کے دریا عبور کیے اور اس حکومت نے کشمیر کو بیچ دیاعمران خان کا نام سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔اسپیکر کی جانب سے خواجہ آصف کے وزیر اعظم بارے بعد الفاظ حذف کرادیئے گئے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎