پاکستانی اسٹیبلشمنٹ آپ کیساتھ ڈبل گیم کھیل رہی ہے ۔۔۔ نواز شریف نے سابق افغان صدر کے ذریعے کونسے اہم راز امریکا تک پہنچا دیے؟خفیہ ایجنسیوں نے کھوج لگا لیا ، چونکا دینے والے انکشافات

  بدھ‬‮ 28 اکتوبر‬‮ 2020  |  15:49

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )آپ امریکا کے اندر لابنگ کریں اور انہیں بتائیں کہ نواز شریف سے زیادہ قابل بھروسہ کوئی اور نہیں ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر اینکر پرسن عمران  ریاض نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود سیاسی صورتحال میں جو ہو رہا ہے وہ سب نواز شریف کی بدولت ہو رہا ہے ،وہ اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور لڑائی کو اس نوبت تک لے گئے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو گئی ہے، پی ڈی ایم اس وقت نواز شریف کے دم سے چل رہی ہے ۔ معروف اینکر پرسن نے کہا ہے کہ


نواز شریف کیساتھ سابق افغان صدر حامد کرزئی کیساتھ 11جنوری کو ملاقات ہوئی جس کھوج پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز نے لگائی ، جبکہ یہ خبر بھی منظر عام پر آئی تھی کہ سابق وزیراعظم نےبھارتی ایجنسی را کے افراد سے ملاقات کی تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔ نواز شریف نے حامد کرزئی کیساتھ ایسی باتیں شیئر کی جن پر ایجنسیوں کو غصہ آیا ہے ۔ نواز شریف نےکہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے آپ بطور افغانی امریکا میں لابنگ کریں اور انہیں واضح کریں کہ نواز شریف سے زیادہ قابل بھروسہ کوئی دوسر ا نہیں ہے ۔ افغانستان اور امریکا کے لیے جو خدمات نواز شریف دے سکتا ہے وہ تحریک انصاف کی حکومت یا موجودہ اسٹیبلشمنٹ نہیں دی سکتی ۔ حامد کرزئی کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان کی موجودہ اسٹیبلشمنٹ آپ کے ساتھ ڈبل گیم کر رہی ہے۔ان مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے یہ پیغام دیا کہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے نواز شریف پر بھروسہ ہیں اور آپ کے مسائل کیلئے مفید ثابت ہونگے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎