ہم پی ڈی ایم چاہتے ہیں کہ بلوچستان ایک آزاد ریاست ہو” اویس نورانی

25  اکتوبر‬‮  2020

کوئٹہ (نیوز ایجنسیاں)جلسے سے خطاب کے دوران جے یو پی کے اویس نورانی نے کہا کہ حکومت احتساب کے نام پر لوگوں کی تذلیل کرنا چاہتی ہے، ایسے احتساب کے عمل کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، ملک کا آئین توڑنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، آنے والا وقت پاکستان کیعوام کا ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ

موجودہ حکومت عوام کی منتخب کردہ نہیں بلکہ مسلط کی گئی ہے، حکومت نے دوسال میں ثابت کردیا کہ وہ عوام کی مشکلات حل نہیں کرسکتیں، وہ احتساب کی گردان کرتے ہیں اور احتساب نہیں انتقام لیتے ہیں، یہ دوائیں، پٹرول اور آٹا غائب کرکے مہنگا کرنے والا نیا پاکستان ہے، اس غیر آئینی اور غیر اخلاقی حکومت سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ مہنگائی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، غریب آدمی کے لئے 2 وقت کی روٹی کمانا مشکل ہے، ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوگیا، موجودہ دورحکومت میں عوامی مشکلات اور مسائل دور نہیں کیے گئے، آئندہ انتخابات کے نتیجے میں عوام کی خواہش پر حکومت آئے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ایک ہوگئی ہیں، سب کو مل کر وفاق سے صوبوں کا حق لینا ہے، بلوچستان کو گیس اور خیبرپختونخواکو بجلی سے محروم رکھا جار ہاہے، بلوچوں اور پختونوں کو مل کر بلوچستان کے حقوق حاصل کرنا ہیں، گوادر پر سب سے پہلا حق بلوچستان کا ہونا چاہیے، پنجاب اور پورے پاکستان سے جو آواز اٹھ رہی ہے اس کا بھی مقدمہ لڑنا ہے۔ اس دوران پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں کوئٹہ میں دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے تھے، سیکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی کے 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ دفعہ 144نافذرہی، موٹر سائیکل کی

ڈبل سواری پر پابندی جب کہ شہر بھر میں موبائل فون سروس بھی معطل رہی۔ اس کے علاوہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں طبی امداد کی بروقت فراہمی کے لیے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔‎پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما اویس نورانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے غاصبوں کے لیے ان کے طنزیہ اور

سوالیہ جملے کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا۔اپنے ایک وضاحتی بیان میں پی ڈی ایم رہنما اور سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان اویس نورانی نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق طنزیہ اور سوالیہ جملے کو میرے مطالبے کے طورپرپھیلایا جارہاہے۔اویس نورانی نے کہاکہ بلوچستان پاکستان کا لازم جْز ہے، کسی کا باپ بھی اسے پاکستان سے الگ نہیں کرسکتا۔‎

موضوعات:



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…