جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

فضائی آلودگی کے حوالے سے پاکستانی شہر دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا، بیماریاں پھیلنے لگیں، شہریوں کو الرٹ جاری

datetime 24  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) صوبائی دارالحکومت لاہور نے موسم تبدیل ہوتے ہی سموگ کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے جس کے بعد باغات کا شہر لاہور فضائی آلودگی کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آگیا ہے اس حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں سموگ کی شدت میں اضافہ ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے باعث ہوا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ شہر بھر میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں ہیں

محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کے روز شہر میں ایئرکوالٹی انڈیکس 350 ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہوا میں فضائی آلودگی کی شرح 97 فیصد رہی۔ سموگ کی شدت میں اضافے کے پیش نظر محکمہ صحت پنجاب نے بالخصوص لاہور کے شہریوں کو الرٹ جاری کردیا ہے اور کہا ہے کہ لاہور میں کان ناک اورگلے کی بیماریاں شدت پکڑتی جا رہی ہیں لہٰذا شہریوں کو گھر سے باہر نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال لازم بنانا ہوگا۔ مزید برآں لاہور ٹریفک پولیس نے سموگ کی شدت میں اضافے کے پیش نظر شہر کی سڑکوں سمیت داخلی اور خارجی راستوں پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی مدد حاصل کرلی ہے جس کے تحت پنجاب سیف سٹی اتھارٹی شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی ای چالانگ کرے گی اور انہیں چند سے جرمانہ کرنے کی بجائے 2 ہزار روپے فی گاڑی جرمانہ کیا جائے گا اور اس قسم کی گاڑیوں کو تین روز کے لئے بند بھی کردیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں سی ٹی او لاہور نے ٹریفک وارڈنز کی دو ٹیمیں تشکیل دے کر بابو سابو انٹر چینج اور بادامی باغ لاری اڈا پر تعینات کردی لیکن ان ٹیموں نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو 2 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد کرنے کی بجائے انہیں وارننگ دینا شروع کردی اس حوالے سے لاہور ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا قانون نہیں جس کی بدولت وہ گاڑیوں کو 2 ہزار جرمانہ کرسکے لہٰذا ان ایسی گاڑیوں کو صرف وارننگ دی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…