حفیظ سینٹر آتشزدگی، تاجروں نے ایف بی آر اور بیویوں سے چھپا کر کروڑوں روپے دکانوں میں رکھے ہوئے تھے جو جل کر راکھ ہو گئے

  جمعرات‬‮ 22 اکتوبر‬‮ 2020  |  22:11

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) حفیظ سینٹر کے تاجروں نے اپنی بیویوں سے چھپا کر کروڑوں روپے دکانوں میں رکھے ہوئے تھے، اس بات کا دعویٰ معروف اقتصادی ماہر قیس اسلم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر دکان میں کم از کم ایک لاکھ روپے کا کیش ضرور موجود ہوتا ہے جبکہ بڑی دکانوں میں زیادہ رقم موجود ہوتی ہے۔ٹیکس سے بچنے کے لئے اکثر تاجر براہ راست کیش کا لین دین کرتے ہیںجس کی وجہ سے دکانوں میں کافی رقم موجود ہوتی ہے۔ قیس اسلم نے کہا کہ دکان سے باہر کیش لے جانے میں تاجروں کو ڈکیتی کا خطرہ


بھی درپیش ہوتا ہے اس کے علاوہ بعض تاجر اپنی بیویوں کو بھی نہیں بتانا چاہتے کہ ان کے پاس کتنی رقم ہے۔دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہاہے کہ حفیظ سنٹر کے متاثرہ تاجروں کو ریلیف دینے کیلئے پیچیدگیوں کو دور کر کے تمام مراحل کا بیک وقت آغاز کیا جائے، آتشزدگی سے صرف تاجر ہی نہیں بلکہ دکانوں پرکام کرنے والے سینکڑوں ملازمین بھی بیروزگار ہو گئے ہیں، حکومت متاثرہ تاجروں اور ملازمین کیلئے امدادی پیکج سے فوری طور پر کچھ فنڈز جاری کرے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے دفتر میں عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ادارے ٹیکسزتو وصول کرتے ہیں لیکن سہولیات فراہم نہیں کرتے، اگر ذمہ دار ادارے حفیظ سنٹر میں آگ سے بچاؤ کیلئے پیشگی اقدامات کا جائزہ لیتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ انار کلی سمیت دیگر بازاروں اور تجارتی مراکز میں بجلی کی بے ہنگم اورلٹکی ہوئی تاریں ایسے ہی کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں لیکن مطالبات کے باوجود اس پر توجہ نہیں دی جارہی۔ تجاوزات کا مسئلہ بھی جوں کا توں ہے اور حادثات کے بعد یہی تجاوزات امدادی سر گرمیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر سمیتتمام تاجر تنظیموں نے حفیظ سنٹر کے تاجروں کیلئے آواز اٹھائی ہے اور ہم حکومت کواس میں غیر ضروری تاخیر نہیں کرنے دیں گے۔ دوسری جانب آل پاکستان گڈزٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنمامحمداویس چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حفیظ سنٹر کے تاجرو ں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں،عالمی سطح کی مارکٹ میں آ تشزد گی کے افسو سناک واقعہ نے تاجربرادری کی کمر تو ڑ کر رکھ دی ہے،آگ بجھانے والے آلات خراب ہو نے کی وجہ سے بر وقت ریسکیو آپریشن شروع نہیں ہو سکا جس سے زیادہ نقصان ہوا۔ان خیالا ت کااظہارانہو ں نے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی کے رہنما ؤ ں محمد اظہرقادری، چوہدری قمر الزمان گل،حاجی الیاس بابر،حاجی ناظم الدین بردی،حاجی محمد اظہر سراج و د یگر سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ گڈز ٹرانسپور ٹر ز کی جدو جہد کو بھی نظر انداز کیاجا رہاہے،حفیظ سنٹر حا دثہ کی طرح ملک کی قومی شاہراہوں پر ہر روز اوور لو ڈ نگ سے کئی حاد ثا ت رو نما ہو تے ہیں مگر قانون نا فذ کرنے والے ادارے اپنی آنکھیں بند کیے ہو ئے ہیں۔انہو ں نے کہاکہ موٹروے پولیس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام کی لا پرو اہی سے اوور لوڈنگ کے باعث نہ صرف قومی شاہراہیںتباہ ہو رہی ہیں بلکہ خطرناک حادثات میں قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔حکومتی نمائندے حفیظ سنٹر حا د ثہ کی طرح اوور لو ڈ نگ کے جن کو قا بو کرنے میں کیو ں سنجیدہ نہیں؟۔یاد رہے کہ مین بلیوارڈ گلبرگ میں واقعہ حفیظ سنٹر میں لگنے والیآگ سے سب سے زیادہ نقصان سنٹر کے رضوان یوسف نامی دکاندار کو ہوا رضوان یوسف کے مطابق جب یہ سانحہ پیش آیا تو وہ بیرون ملک دورے پر تھا جبکہ آگ لگنے سے صرف اس کی ایک دکان پر پانچ کروڑ روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎