جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

حفیظ سینٹر آتشزدگی، تاجروں نے ایف بی آر اور بیویوں سے چھپا کر کروڑوں روپے دکانوں میں رکھے ہوئے تھے جو جل کر راکھ ہو گئے

datetime 22  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) حفیظ سینٹر کے تاجروں نے اپنی بیویوں سے چھپا کر کروڑوں روپے دکانوں میں رکھے ہوئے تھے، اس بات کا دعویٰ معروف اقتصادی ماہر قیس اسلم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر دکان میں کم از کم ایک لاکھ روپے کا کیش ضرور موجود ہوتا ہے جبکہ بڑی دکانوں میں زیادہ رقم موجود ہوتی ہے۔ٹیکس سے بچنے کے لئے اکثر تاجر براہ راست کیش کا لین دین کرتے ہیں

جس کی وجہ سے دکانوں میں کافی رقم موجود ہوتی ہے۔ قیس اسلم نے کہا کہ دکان سے باہر کیش لے جانے میں تاجروں کو ڈکیتی کا خطرہ بھی درپیش ہوتا ہے اس کے علاوہ بعض تاجر اپنی بیویوں کو بھی نہیں بتانا چاہتے کہ ان کے پاس کتنی رقم ہے۔دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے کہاہے کہ حفیظ سنٹر کے متاثرہ تاجروں کو ریلیف دینے کیلئے پیچیدگیوں کو دور کر کے تمام مراحل کا بیک وقت آغاز کیا جائے، آتشزدگی سے صرف تاجر ہی نہیں بلکہ دکانوں پرکام کرنے والے سینکڑوں ملازمین بھی بیروزگار ہو گئے ہیں، حکومت متاثرہ تاجروں اور ملازمین کیلئے امدادی پیکج سے فوری طور پر کچھ فنڈز جاری کرے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے دفتر میں عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ادارے ٹیکسزتو وصول کرتے ہیں لیکن سہولیات فراہم نہیں کرتے، اگر ذمہ دار ادارے حفیظ سنٹر میں آگ سے بچاؤ کیلئے پیشگی اقدامات کا جائزہ لیتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ انار کلی سمیت دیگر بازاروں اور تجارتی مراکز میں بجلی کی بے ہنگم اورلٹکی ہوئی تاریں ایسے ہی کسی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں لیکن مطالبات کے باوجود اس پر توجہ نہیں دی جارہی۔ تجاوزات کا مسئلہ بھی جوں کا توں ہے اور حادثات کے بعد یہی تجاوزات امدادی سر گرمیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر سمیت

تمام تاجر تنظیموں نے حفیظ سنٹر کے تاجروں کیلئے آواز اٹھائی ہے اور ہم حکومت کواس میں غیر ضروری تاخیر نہیں کرنے دیں گے۔ دوسری جانب آل پاکستان گڈزٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنمامحمداویس چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حفیظ سنٹر کے تاجرو ں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں،عالمی سطح کی مارکٹ میں آ تشزد گی کے افسو سناک واقعہ نے تاجر

برادری کی کمر تو ڑ کر رکھ دی ہے،آگ بجھانے والے آلات خراب ہو نے کی وجہ سے بر وقت ریسکیو آپریشن شروع نہیں ہو سکا جس سے زیادہ نقصان ہوا۔ان خیالا ت کااظہارانہو ں نے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی کے رہنما ؤ ں محمد اظہرقادری، چوہدری قمر الزمان گل،حاجی الیاس بابر،حاجی ناظم الدین بردی،حاجی محمد اظہر سراج و د یگر سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ گڈز ٹرانسپور ٹر ز کی جدو جہد کو بھی نظر انداز کیاجا رہاہے،حفیظ سنٹر حا دثہ کی طرح ملک کی قومی شاہراہوں پر ہر روز اوور لو ڈ نگ سے کئی حاد ثا ت رو نما ہو تے ہیں مگر قانون نا فذ کرنے والے ادارے اپنی آنکھیں بند کیے ہو ئے ہیں۔انہو ں نے کہاکہ موٹروے پولیس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام کی لا پرو اہی سے اوور لوڈنگ کے باعث نہ صرف قومی شاہراہیں

تباہ ہو رہی ہیں بلکہ خطرناک حادثات میں قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔حکومتی نمائندے حفیظ سنٹر حا د ثہ کی طرح اوور لو ڈ نگ کے جن کو قا بو کرنے میں کیو ں سنجیدہ نہیں؟۔یاد رہے کہ مین بلیوارڈ گلبرگ میں واقعہ حفیظ سنٹر میں لگنے والی

آگ سے سب سے زیادہ نقصان سنٹر کے رضوان یوسف نامی دکاندار کو ہوا رضوان یوسف کے مطابق جب یہ سانحہ پیش آیا تو وہ بیرون ملک دورے پر تھا جبکہ آگ لگنے سے صرف اس کی ایک دکان پر پانچ کروڑ روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…