جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان اگر تم نے یہ چینل بند کیا تو تمہاری 24 گھنٹے کی نیند حرام کر دیں گے، حامد میر کی وزیراعظم کو وارننگ

datetime 22  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 24 نیوز کی بندش کو 55 روز ہو چکے ہیں، صحافیوں اور کارکنوں سے اظہار یکجہتی کے لئے معروف صحافی حامد میر ان کے احتجاج میں شریک ہوئے اور بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس چینل کو 55 دن پہلے بند کیا گیا ہے اور پیمرا نے دو دن پہلے خصوصی احکامات کے ذریعے اس کو سیٹلائٹ پر بھی بند کردیا ہے، حامد میر نے کہا کہ جب سے  پاکستان

کے وزیراعظم عمران خان بنے ہیں پاکستان میں میڈیا کے شعبہ میں بے روزگاری نہیں پھیل رہی بلکہ پاکستان کے اکثر شعبوں میں بے روزگاری پھیل رہی ہے، لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، انہوں نے تو دعویٰ کیا تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے لیکن انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سے بھی لوگوں کو نکال دیا ہے، پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور اخبارات میں ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ وہاں سے بھی لوگوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے، اب کوشش کی جا رہی ہے کہ چینل 24 نیوز کو عبرت کا نشان بنایا جائے، یہ چینل کافی عرصہ سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ہٹ لسٹ پر ہے۔ میں پورے پاکستان کے صحافیوں کو وارننگ دینا چاہتا ہوں کہ آج چینل 24 ہے اور اگر یہ حکومت اس چینل کو بند کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اس کے بعد باقی ٹی وی چینلز کی باری آئے گی اور وہ چینل کے مالکان جو اس وقت حکومت کی خوشامد کر رہے ہیں اور اس کی گڈ بک میں شامل ہیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو حکومت کے ناقد ٹی وی چینل ہیں وہ بند ہو گئے تو حکومت کے خوشامدی ٹی وی چینلز کو فائدہ ہو گا تو یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے، ہم نے یہ دیکھا ہے کہ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ مختلف حکومتوں کے ترجمان اخبار ہوں یا ٹی وی چینلز ہوں پاکستان کے عوام ان کو پذیرائی نہیں بخشتے، اگر آپ آج چینل 24 نیوز کو بند کریں گے تو وہ چینلز جو حکومت کی خوشامد میں

مقابلہ کر رہے ہیں کہ کون بڑا خوشامدی ہے کل کو ان کی بھی باری آئے گی اور ان کا انجام بھی کوئی مختلف نہیں ہو گا، انہوں نے کہا کہ تمام صحافتی تنظیموں کو اس چینل کے پیچھے کھڑا ہونا ہو گا اور جنگ لڑنا ہو گی، اگر تم نے چینل 24 نیوز کو بند کیا تو آنے والے 24 گھنٹوں میں تمہاری نیند کی راتیں حرام ہو جائیں گی۔ پیمرا اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کے ہاتھوں میں یرغمال بنا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…