مری ( آن لائن ) نیب کے جعلی پراسیکیوٹر نے مری کے تاجروں کا جینا حرام کردیا ۔ کاروباری شخصیات کو نیب کی آڑ میں دھمکانا اور بھتہ وصولی کرنا معمول بن گیا ۔ کاروباری شخصیت ناصر جنجوعہ کواغواء کرنے کی ناکام کوشش پر مری پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ۔ انکوائری میں جرم کی تصدیق ہونے پر ایس پی صدر راولپنڈی سی پی او اور آر پی او نے ملزمان عمران عباسی اور عثمان
عباسی کی درخواست پر تفتیش تبدیل کرنے سے انکار کردیا ۔ ملزمان عمران عباسی اوراس کے بھائی عثمان عباسی کی آج قبل ازگرفتاری ضمانت منسوخ ہونے کا امکان ہے ۔ تفصیلات کے مطابق مری میں اس وقت دو بھائیوں عمران عباسی اور عثمان عباسی نے نیب کا جعلی پراسیکیوٹر بن کر کاروباری شخصیات سے بھتہ وصولی اورتاوان طلبی کا دھندہ شروع کررکھا ہے ۔ مری پولیس نے یکم ستمبر 2020ء کو عمران عباسی اور عثمان عباسی کیخلاف اغواء برائے تاوان کا پہلا مقدمہ درج کیا تھا جس میں وہ ابھی تک عبوری ضمانت پر ہیں اور دیدہ دلیری سے شامل تفتیش ہونے سے بھی انکاری ہیں ۔ ملزم عمران عباسی اور عثمان عباسی نے ایک معروف کاروباری شخصیت ناصر جنجوعہ سے پہلے 50لاکھ روپے مانگے اورپھر ان کے پلازے سے ایک فلیٹ مانگا اور انکار پر مسلح آدمیوں کیساتھ انہیں اغواء کرنے کی کوشش کی تو مقامی لوگوں کی مداخلت اور پولیس کی بروقت کارروائی سے یہ منصوبہ ناکام ہوگیا البتہ ملزم کیخلاف مقدمہ درج کرلیاگیا ۔ ایس پی صدر راولپنڈی ضیاء الدین کے روبرو بیان میں ملزم کی آڈیو ریکارڈنگ سنائی گئی تو اس نے موقف اختیار کیا کہ میرے ساتھ نیب کے لوگ ناصر جنجوعہ کی گرفتاری کے لئے گئے تھے جب پولیس آفیسر ضیاء الدین نے ان نیب ملازمین بارے پوچھ گچھ کی تو ملزمان نے ان کا نام نہیں بتایا جس پر پہلی انکوائری رپورٹ میں لکھا گیا کہ ملزمان نے
ناصرجنجوعہ کو دانستہ تاوان کیلئے اغواء کرنے کی کوشش کی تھی اور اس وقوعہ میں جو گاڑی استعمال کی گئی اس کے مالک راجہ ظہیر نے بھی پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے مجھ سے گاڑی تھوڑی دیر کیلئے مانگی تھی اور جا کر اغواء کی واردات کردی ۔ ملزمان نے تفتیش تبدیل کروانے کیلئے سی پی او اور آر پی کو بھی درخواستیں دیں مگر ٹھوس شواہد ہونے کی وجہ سے انہوں نے ایس
پی صدر ضیاء الدین کی انکوائری رپورٹ کو برقرار رکھا ۔ ملزمان کی آج اس مقدمہ میں پیشی ہے اور قوی امکان ہے کہ فاضل عدالت آج ان کی درخواست ضمانت منسوخ کردے گی ۔ اس گھنائونے دھندے کے دوران مرکزی کردار دونوں سگے بھائی ہیں اوراب انہوں نے ناصرجنجوعہ کودھمکی دی ہے کہ اگر مقدمہ واپس نہ لیا تو ان کا پلازہ دھماکے سے اڑا دیا جائے گا اوران کی اپنی جان
بھی خطرے میں ہوگی ۔ ناصر جنجوعہ نے اس بارے میں بھی مری پولیس کو تحریری درخواست دیدی ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق مری کی کاروباری شخصیات کی طرف سے مسلسل ایسی شکایات مل رہی تھیں کہ دو سگے بھائی نیب کے پراسیکیوٹر بن کر تاجروں
کو دھمکاتے ہیں اور بھتہ وصولی کرتے ہیں لیکن ٹھوس شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ملزم آزاد گھومتے رہے مگرناصرجنجوعہ کے ساتھ اغواء کی واردات کے بعد پولیس نے سارے شواہد اکٹھے کرلئے ہیں اوراب ملزمان کو انجام تک ضرور پہنچایا جائے گا ۔