چودھری نثار میاں برادران کو اچھی طرح جانتے ہیں ، 2014سے 2016تکوہ نواز شریف سے کیا کہتے رہے ،میاں صاحب کے پرنسپل سیکرٹری عینی شاہد ہیں ان کے بقول نواز شریف نے کونسی دو بڑی غلطیاں کر دیں ؟ سینئر صحافی کے انکشافات

  بدھ‬‮ 30 ستمبر‬‮ 2020  |  18:17

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار مظہر عباس اپنے کالم ’ سیاست کے شریف‘میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔کاکڑ صاحب نے نگراں وزیراعظم معین قریشی سے درخواست کی کہ آپ صدر بن جائیں، بےنظیر اور میاں صاحب مان جائیں گے مگر انہوں نے معذرت کرلی۔ چوہدری نثار میاں برادران کو اچھی طرح جانتے تھے اور وہ دوسرے لوگوں سے بھی قریب تھے۔ 2014سے 2016تک وہ نواز شریف صاحبسے کہتے رہے کہ وہ لڑائی نہ لڑیں جو آپ لڑ نہیں سکتے۔ میاں صاحب کے پرنسپل سیکرٹری بھی بہت سے واقعات کے عینی شاہد ہیں اور آجکل اپنی یادداشتیں تحریر کررہے ہیں۔


اُن کے بقول میاں نواز شریف کی دو بڑی سیاسی غلطیاں جنرل کرامت اور جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے جلد بازی کے فیصلے ہیں۔ ’’کرامت صاحب کے استعفیٰ سے پہلے میاں صاحب ان کو بٹھانا چاہتے تھے۔ میری رائے مانگی تو میں نے کہا نہ کریں حکومت چلی جائے گی۔ برطرفی کا لیٹر تیار ہو گیا تھا مگر میں نے روک لیا ایک دن کے لئے۔ اسی دوران وہ ملاقات کے لئے آئے۔ اُس دن میاں صاحب خوش نظر آرہے تھے۔ مہدی تھینک یو وہ تو خود استعفیٰ دے رہے ہیں‘‘۔ 1997میں دوتہائی اکثریت تھی۔ نہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے جھگڑے کی ضرورت، نہ ہی فاروق لغاری سے مسئلہ تھا اور آپ چلے لڑنے اُن سے جن کی وجہ سے آپ کی پہلی حکومت بھی گئی پھر دوسری بھی گئی تیسری بار تو نہ صرف آپ نااہل ہوئے بلکہ سزا یافتہ بھی۔جنرل (ر) پرویز مشرف کو آرمی چیف بنانے کا مشورہ اُنہیں شہباز شریف اور چوہدری نثار نے ’مری‘ کی ملاقات کے بعد دیا مگر چھ ماہ بعد ہی تعلقات میں تنائو آنے لگا۔ مشرف صاحب اپنے مزاج کے آدمی تھے۔ اِس وجہ سے جب میاں صاحب نے برطرفی کا فیصلہ کیا تو شہباز اور نثار کو نہیں بتایا۔ مہدی صاحب کے بقول ’’میں نے درخواست بھی کیکہ مشورہ کرلیں مگر انہوں نے کہا فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر میں اس دن ایئر پورٹ جلدی پہنچ جاتا تو مشرف صاحب کے آنے تک خط کو روک لیتا‘‘۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ (ن) اگر آج سیاسی طور پر مضبوط کھڑی ہے، اُس کا ووٹ بینک برقرار ہے تو اِس میں بہرحال شریف برادران کے بہت سے ترقیاتی کام ہیں۔ آپ لاکھ اختلاف کریں مگر میاں صاحب نے بہت سے ایسے سیاسی فیصلے بھی کئےجس سے چھوٹے صوبوں کا اعتماد پنجاب پر بحال ہوا۔ بھارت سے دوستی کے حوالے سے بھی اُن کا اپنا ایک نقطہ نظر رہا ہے۔ آخر پرویز مشرف بھی آگرہ میں بہت آگے چلے گئے تھے۔سیاست دانوں نے بہت غلطیاں کی ہیں، کرپشن کے سنگین مقدمات اور معاملات میں مگر یہ یک طرفہ ٹریفک نہیں رہا۔ کون سا الیکشن ہے جس میں مداخلتنہیں ہوئی۔ کون سی بڑی جماعت ہے جس کو نہیں توڑا گیا، حکومت گرانے سے حکومت بنانے تک باتیں سامنے ہیں۔ جاتے جاتے میاں صاحب ذرا برطانیہ کے وزیراعظم سے یہ معلوم کرلیں کہ وہ اپنی تنخواہ میں کٹوتی کی وجہ سے گھر میں بیٹے کی آمد کے لئے آیا کیوں نہیں رکھ پا رہے۔ سیاست میں معیار ایسے قائم ہوتے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎