جعلی ڈگری ہولڈرز افسران نے ادارے کا ستیاناس کر دیا کرپٹ افسران کے خلاف وزیراعظم پورٹل پر بھی شکایات پہنچ گئیں

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  23:48

اسلام آباد(آن لائن)وزارت صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارہ پیٹاک میں جعلی ڈگری ہولڈرز افسران نے ادارے کا ستیاناس کر دیا ہے،کرپٹ افسران کے خلاف وزیراعظم پورٹل پر بھی شکایات پہنچ گئیں،انجینئرز کی ڈگریاں کونسل سے مسترد ہونے کے باوجود بھی بااثر افسران براجمان ہیں،ادارے کی یونین نے نیب اور ایف آئی اے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے،پیٹاک کے خلاف تحقیقات ہونے پربیس سے زائد افسران و ملازمین کو ٹھنڈے پسینے شروع ہو گئے ہیں،تفصیلات  کے مطابق  پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹیکنیکل اسسٹنٹ (پٹاک )میں مخصوص مافیا کی جانب سے جعلی اسناد پر غیر قانونی طریقہ سے بھرتی کئے گئے


آفیسران کئی برس بیت جانے کے بعد بھی ڈگریوں کی تصدیق نہ کر سکے جبکہ دوسری جانب متعدد آفیسران کی ڈگریاں انجیئرنگ کونسل سے مسترد ہوچکی ہیں ۔ محکمہ کے اندر زرائع سے پتا چلا ہے کہ محکمہ پٹاک میں جعلی ڈگریوں کے حامل آفیسران نے مختلف شعبوں کے اندر نہ صرف بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہیں بلکہ محکمہ کی آنکھوں میں  دھول جھونک کرسرکاری پاسپورٹ کے لئے ایچ آر دیپارٹمنٹ سے جعلی لیٹر بھی لے چکے ہیں  زرائع نے یہ بھی بتایا  ہے کہ جبکہ چند سال قبل سابق ڈی جی کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی نے بلیو مولڈنگ مشین کی خریداری 12 لاکھ روپے میں درآمد کی گئی ہے جبکہ یہ مولڈنگ پاکستان میں ہی موجود ایک شخص سے خریدی گئی تھی دوسری جانب پاکستان انڈسٹریل اسسٹنٹس سنٹر (پٹاک) بلیو مولڈنگ مشین خود بھی بنا سکتا ہے ایک مرتبہ خریداری پر اسی کمیٹی نے دوبارہ اسی بلیومولڈنگ مشین کی خریداری 14 لاکھ روپے میں کی یہ خریداری محض کاغذوں میں ہوئی اور محکمہ سے 14 لاکھ روپے لے گئے جبکہ اس مولڈنگ کا آج تک استعمال نہیں ہو کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی اس طرح سرکاری خزانے کو 26 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ۔ محکمہ میں موجود چند آعلی آفیسران کے ٹولے نے  زونل آفیسز میں بھی خلاف میرٹ بھرتیاں کرائیں جس پردیگر درخواست دھندگان کے ساتھ نہ صرف نا انصافی ہوئی بلکہ میرٹ پر آنے والوں نے عدالت کا رخ بھی کر لیا۔محکمہ پٹاک  میں جعلی ڈگریوں کے حامل کرپٹ آفیسران کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن  اور ایف آئی اے نے ایکشن لینے کے لئے ریکارڈ حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔


زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎