اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

اگر پاکستان کو ریاست مدینہ ہی بنانا ہے تو پھر ریاست مدینہ کے قوانین نافذ کئے جائیں، جاوید ہاشمی کا حکومت سے مطالبہ

datetime 14  ستمبر‬‮  2020 |

کرمانوالہ (این این آئی)  پاکستان اور جمہوریت لازم و ملزوم ہے اس کا راستہ روکنے والے مٹ جائینگے ،پاکستان صرف جمہوریت کے ساتھ ہی رہ سکتا ہے جمہوریت اور جمہوری قوتوں کی بالا دستی ہو گی تو ملک ترقی کرے گا۔جمہوریت کی کرن دبانے والے خود دب کر مٹ جائیں گے ریاست مدینہ کا تصور دینے والے حکمرانوں کے دور میں ایک خاتون کو اسکے

بچوں کے سامنے جس درندگی کا نشانہ بنایا گیا اس پر عمران خان کو مستعفی ہو جانا چاہیئے ۔ان خیالات کا اظہارسینئر سیاستدان و پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنمامخدوم جاوید ہاشمی نے میڈیا سے ایک ملاقات میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں ایسا تو تصور بھی نہیں کیاجا سکتا اگر پاکستان کو ریاست مدینہ ہی بنانا ہے تو پھر ریاست مدینہ کے قوانین نافذ کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم ایسے درندوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیئے کہ ایسے درندوں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کبھی کسی کو ایسی جرات کرنے کا حوصلہ نہ ملے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں ن اور ش کی تقسیم کے بارے میں باتیں وہ کر رہے ہیں جو کل تک مشرف کے ساتھی تھے۔مسلم لیگ ن اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اور حقیقت ہے کہ آج بھی اس کا ووٹ بنک سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نواز شریف ہی ہیں جنہوں نے تین بار اقتدار اعلیٰ دیکھنے کے بعد جیلوں کو چوم لیا ایسی قربانیاں دینے والی پارٹیاں اور قیادت کیسے تقسیم ہو سکتی ہے پاکستان ن کی تقسیم کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں بستے ہیں اور ان کے خواب بھی شیخ چلی جیسے ہیں۔انہوںنے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیںاور اگر کوئی چھوٹی موٹی بات ہے تو اس کی بنیاد پرپارٹی تقسیم ہو جائے اس کا  سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھااور ہمیں اس کلمے کی روح کی پاسداری کرنا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…