جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اگر پاکستان کو ریاست مدینہ ہی بنانا ہے تو پھر ریاست مدینہ کے قوانین نافذ کئے جائیں، جاوید ہاشمی کا حکومت سے مطالبہ

datetime 14  ستمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کرمانوالہ (این این آئی)  پاکستان اور جمہوریت لازم و ملزوم ہے اس کا راستہ روکنے والے مٹ جائینگے ،پاکستان صرف جمہوریت کے ساتھ ہی رہ سکتا ہے جمہوریت اور جمہوری قوتوں کی بالا دستی ہو گی تو ملک ترقی کرے گا۔جمہوریت کی کرن دبانے والے خود دب کر مٹ جائیں گے ریاست مدینہ کا تصور دینے والے حکمرانوں کے دور میں ایک خاتون کو اسکے

بچوں کے سامنے جس درندگی کا نشانہ بنایا گیا اس پر عمران خان کو مستعفی ہو جانا چاہیئے ۔ان خیالات کا اظہارسینئر سیاستدان و پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنمامخدوم جاوید ہاشمی نے میڈیا سے ایک ملاقات میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں ایسا تو تصور بھی نہیں کیاجا سکتا اگر پاکستان کو ریاست مدینہ ہی بنانا ہے تو پھر ریاست مدینہ کے قوانین نافذ کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم ایسے درندوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیئے کہ ایسے درندوں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کبھی کسی کو ایسی جرات کرنے کا حوصلہ نہ ملے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں ن اور ش کی تقسیم کے بارے میں باتیں وہ کر رہے ہیں جو کل تک مشرف کے ساتھی تھے۔مسلم لیگ ن اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے اور حقیقت ہے کہ آج بھی اس کا ووٹ بنک سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نواز شریف ہی ہیں جنہوں نے تین بار اقتدار اعلیٰ دیکھنے کے بعد جیلوں کو چوم لیا ایسی قربانیاں دینے والی پارٹیاں اور قیادت کیسے تقسیم ہو سکتی ہے پاکستان ن کی تقسیم کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں بستے ہیں اور ان کے خواب بھی شیخ چلی جیسے ہیں۔انہوںنے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیںاور اگر کوئی چھوٹی موٹی بات ہے تو اس کی بنیاد پرپارٹی تقسیم ہو جائے اس کا  سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھااور ہمیں اس کلمے کی روح کی پاسداری کرنا ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…