بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

استعفیٰ منظور کر لیتے تو عمران خان کو خود مستعفی ہونا پڑتا، اب لو گے احتساب کا نام؟ مریم نواز دبے لفظوں میں بہت کچھ کہہ گئیں

datetime 4  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)مسلم لیگ(ن) کی رہنماء مریم نواز نے کہا ہے کہ احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا۔ استعفی ٰمنظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پ اپنے پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ این آر او کیوں اور کیسے دیا جاتا ہے، کس کو دیا جاتا ہے، ایک دوسرے کو دیا جاتا ہے، قوم کو سمجھانے کا شکریہ۔

جواب تو پھر بھی دینا پڑے گا! اب لو گے احتساب کا نام؟ دوسری جانب سیشن عدالت نے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کے کیس میں کیپٹن (ر)محمد صفدر سمیت16 لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں خارج کردیں۔ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد نے درخواست پر سماعت کی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ نیب دفتر حملہ مقدمہ میں انسداد دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں اور عبوری درخواست ضمانتوں کے لیے سیشن کورٹ کا دائر اختیار نہیں بنتا۔پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے کے بعد درخواست قابل سماعت نہیں رہی۔ کیپٹن (ر) محمد صفدر کے وکیل نے موقف اپنایا کہ پولیس نے حقائق کے برعکس انسداد دہشتگردی دفعات شامل کیں۔عدالت نے وکلا ء کی بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت روانہ ہوگئے۔عدالت نے عبوری درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے ضمانتیں خارج کرتے ہوئے تمام ملزمان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔قومی احتساب بیورو نے نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی پر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر)صفدرسمیت188 لیگی رہنماؤں پر ایف آئی آر درج کرائی تھی۔مقدمے میں مریم نواز، ان کے شوہر محمد صفدر سمیت رانا ثنا اللہ، پرویز رشید، زبیر محمود، جاوید لطیف، دانیال عزیز اور پرویز ملک کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمے میں 300 نامعلوم افراد سمیت 188 لیگی رہنماؤں اور کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا ہے جب کہ مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ بعد ازاں مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کر لی گئی تھیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…