اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

اگر احمد نورانی کی خبر غلط تو پھر عاصم سلیم باجوہ نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے سے استعفیٰ کیو ں نہیں دیا ؟ سینئر صحافی حامد میر نے عاصم باجوہ کے استعفے پر سوالات اٹھا دیے

datetime 4  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار و اینکر پرسن حامد میر نے عاصم سلیم باجوہ کا وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینا پر سوالا ت کھڑے کر دیئے ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر انہوں نے لکھا کہ ’’ اگر صحافی احمد نورانی نے غلط خبر بریک کی تھی تو عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ کیوں چھوڑا ؟

ایک وقت میں خبر کی تردید پھر استعفیٰ دینے کی وجہ کیا ہے ؟انہوں نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا ؟ یا سٹوری کی مخالفت غلط ہے یا پھر ان کا استعفیٰ دینا غلط ہے ۔دوسری جانب عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کو اپنا استعفیٰ پیش کردیں گے اور ان سے درخواست کریں گے کہ معاون خصوصی کے عہدے سے سبکدوش کردیں۔ عاصم باجوہ نے کہا کہ ’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میری توجہ ایک طرف ہونی چاہیے ، اسی لیے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے مشورے کے باوجود تفصیل سے وضاحت دی ہے، وزیراعظم بھی میری وضاحت کو دیکھ چکے ہیں، پاکستان میں جہاں بھی منی ٹریل یا دستاویز دینے کی ضرورت ہو پیش کرنے کیلئے تیار ہوں، کسی فورم پر تفصیل یا ثبوت چاہئیں تو میرے پاس موجود ہے یا اکٹھے کرسکتا ہوں، اہل خانہ کے مشورے سے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔سی پیک اتھارٹی میں اس وقت بہت زیادہ فوکس چاہئے اس لئے ساری توجہ وہاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے، محکمہ اطلاعات میں بہت قابل لوگ ہیں وہ کام ان کیلئے چھوڑوں گا، معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ کل وزیراعظم کو پیش کروں گا۔امید ہے وزیراعظم مجھے سی پیک میں مزید توجہ دینے کی اجازت دیں گے، سی پیک میں بہت اچھی ٹیم بن رہی ہے اور اچھا مومنٹم ہے، سی پیک کا اسکوپ آئندہ مزید بڑھتا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…