ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

پروفیسر جلاد بن گیا، پی ایچ ڈی کرنیوالی اپنی ہی طالبہ پر مظالم بہن کی درد ناک موت کے بعدبھائی نے سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا

datetime 18  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پروفیسر کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی جان لینے والی پی ایچ ڈی کی طالبہ کے بھائی نے انکشاف کیا ہے کہ ہمیں سب سے پہلا جھٹکا تب لگا تھا جب نادیہ نے دو سال پہلے اپنی کلائیاں کاٹ کر پہلی بار خودکشی کرنے کی کوشش کی۔

شہباز کے مطابق ایسا نادیہ نے اس وقت کیا تھا کہ جب ان سے کم نمبر حاصل کرنے والی ایک طالبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دی گئی تھی جس کا صدمہ نادیہ سے برداشت نہیں ہوا کیونکہ انہیں 2016 میں ڈگری ملنی تھی مگر ان کے تحقیقی کام میں کچھ کمیوں کے باعث انہیں نہیں مل سکی تھی۔ ان کے مطابق اس دوران نادیہ کو کراچی کے ایک نفسیاتی ہسپتال میں بھی داخل کروایا گیا تھا جہاں ان کا کچھ وقت تک علاج چلتا رہا اور ڈاکٹرز نے ہمیں بتایا کہ انہیں شیزوفرینیا نامی ذہنی بیماری ہے۔مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نادیہ اشرف کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے لگے اور جسٹس فار نادیہ کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔دوسری جانب ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کے ترجمان نے کہا کہ نادیہ اشرف ڈاکٹر امین سوریا کی زیر نگرانی2007 میں ایم فل پی ایچ ڈی میں اِن رول ہوئی تھیں اور ڈاکٹر امین سوریا کے جانے کے بعد وہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے زیر نگرانی اپنا پی ایچ ڈی مکمل کررہی تھی۔دریں اثنا ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ نادیہ اشرف مبینہ طور پر اپنے قریبی دوستوں سے یہ کہتی تھیں کہ ڈاکٹر اقبال چوہدری میرا پی ایچ ڈی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے جب دوسری ریسرچ آرگنائزیشن میں نوکری اختیار کی تو وہاں بھی ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ان کی نوکری ختم کروانے کی کوشش کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…