نیب آفس لاہورکے باہر اینٹی رائٹ فورس کی جانب سے لیگی کارکنوں پر سرخ مرچوں والا سپرے کرنے کا انکشاف

  منگل‬‮ 11 اگست‬‮ 2020  |  19:37

لاہور (آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی نیب لاہور آفس پیشی کے موقع پر پولیس اور پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے درمیان تصادم سے قبل نیب آفس کے باہر تعینات اینٹی رائٹ فورس نے ن لیگی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لیگی کارکنوں پر سرخ مرچوں والا سپرے کیا۔ جس کی وجہ سے نیب آفس کے باہر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نوازکی اراضی کیس میں نیب پیشی کے موقع پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ ہو گئی اور علاقہ میدان جنگ


بنا رہا ، کشیدہ حالات کے باعث نیب نے مریم نواز کی پیشی منسوخ کر کے انہیں باہر سے ہی واپس بھجوا دیا گیا ، ایک دوسرے پر پتھرائو ، پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے لیگی کارکنان سمیت کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے جبکہ صحافی اور کیمرہ مین بھی پھرائو اور شیلنگ کی زد میں آگئے، مشتعل لیگی کارکنان نے نیب ہیڈ کوارٹر کی طرف جانے والے راستے پر لگائی گئی تمام رکاوٹیں گرا دیں اور حکومت اورپولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ، لیگی رہنمائوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جان بوجھ کر امن و امان کی صورتحال پیدا کی گئی اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور پولیس پر عائد ہوتی ہے ۔  مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز گزشتہ روز پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کے بڑے جلوس میں جاتی امراء سے نیب کے ٹھوکر نیاز بیگ پر واقعہ ہیڈ کوارٹر میں پیشی کیلئے روانہ ہوئیں ۔ پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے لیگی کارکنوں کو جمع ہونے کی کال کے پیش سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے اور کئی شاہراہوں کو مختلف مقامات پر بیرئیر زاور خار دار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا جبکہ نیب ہیڈ کوارٹر کے اطراف میںبھی باہر بیرئیر اور خار دار تاریں لگا کر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ۔  مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کیایک بڑی تعداد صبح سویرے ہی نیب ہیڈ کوارٹر کے باہر پہنچ گئی تھی جو وقفے وقفے سے نعرے بازی کرتے رہے جبکہ اس موقع پر کارکنوںکی جانب سے متعدد بار رکاوٹیں ہٹا کر نیب کے مرکزی دروازے تک پہنچنے کی کوشش میںپولیس سے دھکم پیل اور ہاتھا پائی بھی ہوتی رہی ۔مریم نواز کا قافلہ نیب ہیڈ کوارٹر کے قریب پہنچنے پر پہلے سے موجود اور قافلے کے ہمراہ آنے والے کارکنوں نے آگے جانے کے لئے پولیس رکاوٹیں ہٹانے کیکوشش کی اور رکاوٹیں گرانا شروع کر دیں جس پر پولیس کی جانب سے کارکنوں پر ہلکا لاٹھی چارج کیا گیا ۔ کارکنوں نے پیچھے واپس جا کر پولیس اہلکاروں پر پتھرائو شروع کر دیا جس کے جواب میں پولیس نے بھی جوابی پتھرائو کیا ۔ پتھرائو کے نتیجے میں مریم نواز کی ذاتی گاڑی اورسکیورٹی سمیت کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ کئی پولیس اہلکار اور کارکنان بھی زخمی ہوئے ۔ مشتعل کارکنوں کی جانب سے مسلسل پتھرائو پر پولیس نےآنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے وہاں موجود رہنمائوں اور کارکنوں کی طبیعت خراب ہو گئی جبکہ میڈیا کے نمائندے بھی پتھرائو اور آنسو گیس کی شیلنگ سے بری طرح متاثر ہوئے ۔ حالات کشیدہ ہونے پر نیب کی جانب سے مریم نواز سے رابطہ کر کے ان کی پیشی منسوخ کر کے انہیں واپس جانے کا کہہ دیا گیا تاہم کچھ دیر بعد مریم نواز دوبارہ نیب کے دفتر کے باہر پہنچ گئیں اور ان کی گاڑی کافی دیرتک نیب دفتر کے باہر کھڑی رہی اور کارکنوںنے ان کی گاڑی کو اپنے حصار میں لئے رکھا ۔کچھ دیر انتظار کے بعد مریم نواز وہاں سے واپس روانہ ہو گئیں اور پولیس نے نیب ہیڈ کوارٹر کے باہر لیگی کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کر دی ۔ کئی کارکن گرفتاریوں سے بچنے کے لئے قریب واقع ہوٹلوںمیں چھپ گئے تاہم پولیس نے انہیں تعاقب کر کے حراست میں لے لیا ۔قبل ازیں صبح سویرے ہی پارٹی رہنما اور لیگی کارکنان جاتی امراء پہنچنا شروعہوگئے تھے۔ کارکنان تیری آواز میری آواز مریم نواز مریم نواز، چاروں صوبوں کی آواز مریم نواز مریم نواز ، ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ، سلام ہے سلام مریم تیرے جذبے کو سلام ہے کے نعرے لگاتے رہے۔ مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر پارٹی کے مرکزی رہنما پرویز رشید، محمد زبیر، خرم دستگیر، طلال چوہدری،عابد شیر علی، تہمینہ دولتانہ، مصدق ملک، پروز ملک، خواجہ عمران نذیر، شائستہ پرویز ملک سمیت اراکین قومی صوبائی اسمبلی اور لاہور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اضلاع کے پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ علاوہ ایک نجی ٹی وی نے مبینہ طور پر جاتی امراء سے روانگی کے موقع پرگاڑیوں میں پتھروں سے بھرے شاپنگ بیگز رکھنے کی فوٹیج بھی جاری کر دی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق رکن پنجاب اسمبلی مرزا جاوید کے بیٹے اور ملازمین نے پتھروں سے بھرے ہوئے شاپنگ بیگز گاڑیوںمیںر کھے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎