ہم بھارت کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں، جے یو آئی نے قانون سازی کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھا دیا

  پیر‬‮ 10 اگست‬‮ 2020  |  19:35

اسلام آبا د(این این آئی) قومی اسمبلی میں جے یو آئی (ف) نے قانون سازی کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھا دیا جبکہ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمدخان نے کہاہے کہ عجیب لوگ ہیں دلیل تھی نا حوالہ تھا انکے پاس بس اختلاف رکھتے ہیں۔پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں مولانا اسعد محمود نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیر خارجہ نے میوچل اسسٹنس بل پر حکومت کی مجبوری بیان کی اور کہا کہ جو اس بل کو سپورٹ نہیں کرے گاوہ پاکستان کے خلاف دشمن کا ساتھ دے گا، ہم پر اتنا بڑا الزام لگادیا گیا اور ہم


کو سنا بھی نہیں گیا، دس روز تک ہمارے خلاف میڈیا ٹرائل کیا گیا کہ ہم بھارت کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں، اس آئین پاکستان کو بنانے والے ہمارے بڑے ہی تھے، جتنی بھی آئین سازی ہوئی ہمارے بغیر مکمل ہی نہیں ہوسکتی، بل یہاں لانے سے پہلے منظور کئے گئے پھر نکتہ نظر لیا گیا، بازو مروڑ کر قانون سازی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اگر حکومتی بنچز سے ہماری قیادت کو گالی نکالی گئی تو ان کی نشاندہی کریں گے جو آپ کو لائے ہیں، پیپلزپارٹی،ن لیگ اور پی ٹی آئی قانون سازی پر اتفاق کرتے ہیں،مراد سعید کھڑے ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے بارڈر پر کھڑے ہیں، یہ کیسا اختلاف ہے کہ جو چند لمحوں میں اتفاق سے اختلاف میں بدل جاتا ہے۔مولانا اسعد محمود نے کہاکہ میوچل اسسٹنس بل پر ہم نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے شکوہ کیا،ہمارا شکوہ تھا کیوں ہمیں مشاورت سے باہر رکھا گیا،اگر سپیکر کی کرسی قانون سازی بھی کریگی قائمہ کمیٹی کا کردار بھی ادا کریگی،پی پی اور ن لیگ کو بھی ہم نے تجاویز دیں کہ وہ شامل کروالیں،کیا حکومت اتنی کمزور ہوگئی کہ بھارت کے ایما پر اپنے لوگوں کو ذبح کرے اور ہم خاموش رہیں گے یہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دونوں کمزور اعصاب کے مالک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر چاہتے ہیں تو ہم آپ کیلئے مراعات کا اعلان کردیں گے تاکہ آپکو تنخواہیں و مراعات ملتیرہیں اس لئے اس ملک کی جان چھوڑ دو۔وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے یہ ایوان سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر کام کرتا ہے۔ اپوزیشن میں تھے تو چند قومی مسائل میں حکومت کے ساتھ ملکر بیٹھے، یہ کہنا کہ ہمیں کسی نے یہاں بیٹھایا کیا یہ کروڑوں لوگوں کی توہین نہیں؟ عجیب لوگ ہیں دلیل تھی نا حوالہ تھا انکے پاس بس اختلاف رکھتے ہیں، ایوان میں جے یو ائی کو سنناانکا حق ہے، آپکو ماضی میں کس کس نے لاکر یہاں بیٹھایا وہ بھی بتائیں، عمران خان تو آج حکومت میں آیا ہماری تو تہائی اکثریت نہیں ہے، ایوان میں تگڑی اپوزیشن موجود ہے، چھوٹے مولانا صاحب بڑے مولانا صاحب سے پوچھیں 2002 میں ایک شخص جیت کر آیا تھا، وہ شخص کبھی کسی کے آگے نہیں جھکا نہ بکا،عمران خان نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر خاتم النبین کا ذکر کیا۔اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے خالد مگسی نے کہاکہبلوچستان میں بارشوں سے بہت نقصان ہوا ہے،کہا جاتا ہے کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے لیکن بلوچستان حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں،وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ بلوچستان کی صورتحال پر توجہ دے۔خالد مگسی نے کہاکہ بلوچستان میں بارشوں سے بہت نقصان ہوا ہے،کہا جاتا ہے کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے لیکن بلوچستان حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں،وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ بلوچستان کی صورتحال پر توجہ دے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎