اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

انا للہ و انا الیہ راجعون 44 برس شعبہ صحافت کو دینے والے معروف صحافی سید اطہر علی ہاشمی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف سید اطہر علی ہاشمی کراچی میں 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔اطہر ہاشمی طویل عرصے سے عارضہ قلب اور دیگر امراض میں مبتلا تھے، مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ ظہر جامع مسجد شہباز گلستانِ جوہر بلاک 12 میں ادا کی گئی بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

سید اطہر علی ہاشمی1946 کو پیدا ہوئے، ایف سی کالج لاہور سے انٹر اور بعدازاں جامعہ کراچی میں تعلیم مکمل کی،اطہر علی ہاشمی نے علاوالدین خلجی کی معاشی پالیسی پر مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری حاصل کی تھی۔وہ نہ صرف اردو کے استاد تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کرنا سکھائی، ان کا شمار عرب نیوز ویب سائٹ اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی رہے جبکہ روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے۔انہوں نے زندگی کے 44 برس شعبہ صحافت کو دیئے۔اطہر ہاشمی کو عربی، ہندی اور فارسی پر بھی عبور تھا وہ سنسکرت کی شدھ بدھ بھی رکھتے تھے۔زبان کی اصلاح کے حوالے سے اطہر ہاشمی کے کالم خبر لیجیے زباں بگڑی کے عنوان سے نہ صرف پاکستان بھر میں پڑھے جاتے تھے بلکہ دنیا کئی ملکوں کے اخبارات ان کالموں کو اپنے روزناموں میں شائع کرتے تھے۔مرحوم قناعت پسند، بے نیاز، نرم خو، خوش مزاج ، صلح جو، لائق قلم کار اور بہت اچھے استاد تھے۔مرحوم اطہر ہاشمی کے سوگوران میں 3 بیٹے اور 1 بیوہ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…