انا للہ و انا الیہ راجعون 44 برس شعبہ صحافت کو دینے والے معروف صحافی سید اطہر علی ہاشمی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

  جمعرات‬‮ 6 اگست‬‮ 2020  |  17:02

کراچی (این این آئی)روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف سید اطہر علی ہاشمی کراچی میں 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔اطہر ہاشمی طویل عرصے سے عارضہ قلب اور دیگر امراض میں مبتلا تھے، مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ ظہر جامع مسجد شہباز گلستانِ جوہر بلاک 12 میں ادا کی گئی بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔سید اطہر علی ہاشمی1946 کو پیدا ہوئے، ایف سی کالج لاہور سے انٹر اور بعدازاں جامعہ کراچی میں تعلیم مکمل کی،اطہر علی ہاشمی نے علاوالدین خلجی کی معاشی پالیسی پر مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری حاصل کی


تھی۔وہ نہ صرف اردو کے استاد تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کرنا سکھائی، ان کا شمار عرب نیوز ویب سائٹ اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی رہے جبکہ روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے۔انہوں نے زندگی کے 44 برس شعبہ صحافت کو دیئے۔اطہر ہاشمی کو عربی، ہندی اور فارسی پر بھی عبور تھا وہ سنسکرت کی شدھ بدھ بھی رکھتے تھے۔زبان کی اصلاح کے حوالے سے اطہر ہاشمی کے کالم خبر لیجیے زباں بگڑی کے عنوان سے نہ صرف پاکستان بھر میں پڑھے جاتے تھے بلکہ دنیا کئی ملکوں کے اخبارات ان کالموں کو اپنے روزناموں میں شائع کرتے تھے۔مرحوم قناعت پسند، بے نیاز، نرم خو، خوش مزاج ، صلح جو، لائق قلم کار اور بہت اچھے استاد تھے۔مرحوم اطہر ہاشمی کے سوگوران میں 3 بیٹے اور 1 بیوہ شامل ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎