جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

انا للہ و انا الیہ راجعون 44 برس شعبہ صحافت کو دینے والے معروف صحافی سید اطہر علی ہاشمی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف سید اطہر علی ہاشمی کراچی میں 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔اطہر ہاشمی طویل عرصے سے عارضہ قلب اور دیگر امراض میں مبتلا تھے، مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ ظہر جامع مسجد شہباز گلستانِ جوہر بلاک 12 میں ادا کی گئی بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

سید اطہر علی ہاشمی1946 کو پیدا ہوئے، ایف سی کالج لاہور سے انٹر اور بعدازاں جامعہ کراچی میں تعلیم مکمل کی،اطہر علی ہاشمی نے علاوالدین خلجی کی معاشی پالیسی پر مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری حاصل کی تھی۔وہ نہ صرف اردو کے استاد تھے بلکہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کرنا سکھائی، ان کا شمار عرب نیوز ویب سائٹ اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں ہوتا تھا اس کے علاوہ وہ روزنامہ امت کے ڈپٹی ایڈیٹر انچیف بھی رہے جبکہ روزنامہ جنگ لندن سے بھی وابستہ رہے۔انہوں نے زندگی کے 44 برس شعبہ صحافت کو دیئے۔اطہر ہاشمی کو عربی، ہندی اور فارسی پر بھی عبور تھا وہ سنسکرت کی شدھ بدھ بھی رکھتے تھے۔زبان کی اصلاح کے حوالے سے اطہر ہاشمی کے کالم خبر لیجیے زباں بگڑی کے عنوان سے نہ صرف پاکستان بھر میں پڑھے جاتے تھے بلکہ دنیا کئی ملکوں کے اخبارات ان کالموں کو اپنے روزناموں میں شائع کرتے تھے۔مرحوم قناعت پسند، بے نیاز، نرم خو، خوش مزاج ، صلح جو، لائق قلم کار اور بہت اچھے استاد تھے۔مرحوم اطہر ہاشمی کے سوگوران میں 3 بیٹے اور 1 بیوہ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…