بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

اگر عمران خان پارلیمنٹ کے سامنے جا سکتے ہیں توہمیں کیوں روکا گیا؟حکومت بھگاؤ تحریک، حکومت کو ڈیڈ لائن دے دی گئی

datetime 18  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ملک بھر کے تاجروں نے کاروبار کی بندش اور مطالبات کے حل کے لیے حکومت کو 31جولائی کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ہفتہ کو اسلام آباد میں آل پاکستان انجمن تاجران کی جانب سے ہارن بجاؤ حکمران جگاؤ احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔تاجروں نے مطالبات کے حق میں زیر وپوائنٹ اسلام آباد سے وزیراعظم ہاؤس تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا،دیگر شہروں سے آنے والے تاجر زیرو پوائنٹ پہنچے تو پولیس نے

انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا، تاہم مذاکرات کے بعد مظاہرین کو پیدل جلوس کے بجائے سرینا چوک تک صرف گاڑیوں میں جانے کی اجازت دے دی گئی،ریلی میں مظاہرین باجے اور گاڑی کے ہارن بجاکر احتجاج کرتے رہے، ان کا مطالبہ تھا کہ ملک بھر کے ریسٹورنٹس، اسکولز، ہوٹلز اور شادی ہالز کو فوری طور پر کھولنے دیا جائے اور تمام کاروبار رات 10 بجے تک کھولنے کی بھی اجازت دی جائے۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا راستہ روکا گیا اور بلوچستان اور سندھ کے مظاہرین کو اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیاگیا،اگر عمران خان پارلیمنٹ کے سامنے جا سکتے ہیں تو تاجروں کو کیوں روکا گیا؟انہوں نے مطالبہ کیاکہ ہوٹل، اسکول، پارلرز، شادی ہال سب کو کھولنے کی اجازت دی جائے،لاک ڈاؤن کی چھٹی ختم اور رات 10 بجے تک دکانوں کو کھولنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ اجمل بلوچ نے کہاکہ بس میں 50 آدمی سفر کر سکتے ہیں تو شادی ہال میں 100 لوگ کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ تاجروں کو بلا سود قرضے دیے جائیں تاکہ انہیں ریلیف ملے۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران نے کہا کہ 31جولائی تک ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو حکمران بھگاؤ تحریک شروع کی جائے گی۔تاجروں نے مطالبات کے حق میں زیر وپوائنٹ اسلام آباد سے وزیراعظم ہاؤس تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔شاہد غفور پراچہ نے کہاکہ حکومت کاروباری سرگرمیوں.کی مکمل.بحالی.کے لیے شام.سات کی بجائے وقت دس بجے.مقرر کرے۔ انہوں نے کہاکہ چھوٹے تاجروں.کے لئے ریلف پیکج کا اعلان کیا جائے،ہفتہ وار دو چھٹیوں کے بجائے ایک چھٹی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ 31 جولائی تک حکومت کی پالیسی تبدیل اور ہمارے مطالبات منظور نہ ہوئے تو آئندہ لائحہ عمل دیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…