بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

بزدارحکومت نے میٹرو بس اور سپیڈو بس کمپنی کے ملازمین کی تنخواہوں رو ک لیں معاملہ اسمبلی تک پہنچ گیا

datetime 18  جولائی  2020 |

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ تیمور نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس کے مطابق پنجاب حکومت نے فنڈزمیں کمی کے باعث میٹرو بس کمپنی اور سپیڈو بس کمپنی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی روک دی ، جس کے باعث کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین عید الضحیٰ کی خوشیوں سے محروم ہونگے۔

کمپنیوں کی جانب سے صورت حال مزید ابتر ہونے سے روکنے کے لئے فوری طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو پانچوں بڑے منصوبوں کو بحال کرنے کی درخواست دے دی گئی ہے حکومت کی جانب سے کورونا لاک ڈائون کے باعث بند کی جانے والی میٹرو بس سروس لاہور ،ملتان اور راولپنڈی سمیت سپیڈو بس سروس لاہور اور ملتان کے ملازمین کے لئے اپریل میں فنڈز جاری کئے گئے تھے تا کہ انکے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی ہو سکے لیکن اب تک مئی اور جون کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے ، کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کو واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر دو روز میں حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہیں کئے جاتے تو وہ عید الضحیٰ پر ملازمین کو تنخواہ نہیں دے سکیں گے میٹرو بس سروس اور سپیڈو بس سروس کو خدمات دینے والی کمپنیوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو لیٹر لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ حکومت انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کی طرح میٹرو اور سپیڈو بس چلانے کی اجازت دے تا کہ ملازمین کو کم از کم تنخواہوں کی ادائیگی کرنے میں آسانی ہوجائے۔ مراسلہ میں نیو یارک ،لندن ،پیرس میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وہاں پر سنگین صورت حال میں بھی بسوں اور میٹرو ٹرینوں کو چلایا گیا۔میٹرو اور سپیڈو بس بند ہونے سے لاہور اور دیگر شہروں موٹر سائیکل رکشوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو گیا جو ایس او پیز کی مکمل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…