بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے وبا کے دوران وزارت سائنس کے ذیلی اداروں کو فنڈز نہیں دیے، کورونا فنڈ کہاں گیا؟چیئرمین کمیٹی شدید برہم

datetime 15  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سیکرٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ حکومت نے وبا کے دوران وزارت ساِئنس کے ذیلی اداروں کو فنڈز نہیں دئیے جبکہ چیئر مین کمیٹی نے کہا ہے کہ کورونا کا فنڈ کہاں گیا؟ایک وفاقی وزیر کہتا ہے چیئرمین این ڈی ایم اے کو فون کیا تو انجکشن ملا۔سینیٹر مشتاق احمد کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وبا کے دوران پیرا میڈیکل اسٹاف

سمیت دیگر شہدا کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ پاکستان کو کورونا ور ٹڈی دل دونوں وباوں کا سامنا ہے، اگر ٹڈی دل تلف نہ ہوئے یہ خطہ غذائی قلت کا شکار ہو سکتاہے، چین نے کورونا پر قابو پاکر اس کو بطور تجارتی موقع میں تبدیل کیا۔کورونا وبا کے دوران وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے کردار پر سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کورونا کے دوران پاکستان کونسل فار صنعتی ریسرچ نے اپنے سنیٹائزر تیار کیا،سینیٹائزرمیں پچاسی فیصد ایتھنول استعمال کر رہے ہیں،شوگر انڈسٹری ایتھنول باہر بیچ دیتی ہے جسکی مقامی پیداوار پر فرق پڑتا ہے،اس وقت یورپ اور امریکہ میں سنیٹائزر برآمد کر رہے ہیں، کورونا پر ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے اسپرے گنز ڈرونز بھی اور سینٹائز ابھی دفاعی ادارے بھی بنا رہے ہیں،این نائن فائیو ماسک فیس شیلڈ ٹمریچر گنز ویکسین پر کام جاری ہے،سینٹائزر اور وینٹی لیٹرز ہم بنا چکے ہیں۔ سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے کہاکہ حکومت نے وبا کے دوران وزارت ساِئنس کے ذیلی اداروں کو فنڈز نہیں دئیے۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ کورونا کا فنڈ کہاں گیا؟ایک وفاقی وزیر کہتا ہے چیئرمین این ڈی ایم اے کو فون کیا تو انجکشن ملا۔چیئر مین نے کہاکہ کورونا کے فنڈز کہاں گئے کیا این ڈی ایم اے ریسرچ ادارہ ہے۔سینیٹر ہدایت للہ نے کہاکہ آئندہ اجلاس میں این ڈی ایم اے کو اور وزارت خزانہ کو بلایا جائے۔ ارکان نے کہاکہ ویکسین پر

کام وزارت سائنس کے تحقیقی اداروں نے ہی کرنا ہے۔ارکان نے کہاکہ وزارت سائنس کے ذیلی اداروں کو نظر انداز کرنے سے حکومتی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ وزارت سائنس کے اداروں کی اب تک خلا میں ہی ریسرچ ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ جب کسی ریسرچ کا عوام کو فائدہ نہیں تو پھر کیا کہیں اسے،کم وسائل میں وزارت سائنس کے ذیلی اداروں نے کام کیا۔ ارکان کمیٹی کے مطابق ٹڈی دل کا کیمیکل چین سے برآمد کیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…