محکمہ ایریگیشن پٹ فیڈرکینال میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف

  پیر‬‮ 13 جولائی‬‮ 2020  |  0:17

ڈیرہ مرادجمالی (این این آئی )محکمہ ایریگیشن پٹ فیڈرکینال میں بڑے پیمانے پر بے لگام کرپشن کا انکشاف انتم ڈیم اوچ کینال مائنرز کی کروڑوں روپئے کرپشن کی نظرہوگئے آفیسران کے جعلی دستخط کرکے قومی خزانے سے کروڑوں روپئے کی لوٹ مار کی گئی اور پٹ فیڈر کینال کے شگافوں کو پر کرنے کیلئے2019جون میں ایمرجنسی بجٹ 6000000ساٹھ لاکھ مشینری رپیئرکی مد 2100000اکیس لاکھ بغیرٹینڈر کیڈکار لیئے گئےکروڑوں روپئے کی کرپشن کانوٹس لیا جائے گرین بیلٹ کوتباہی سے بچایاجائے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری میر نظام الدین لہڑی،جمعیت علماء اسلام نصیر آباد کے ضلعی امیر مولانا بشیر


احمد جمالی،ضلع نائب امیر حاجی بخش بنگلزئی،تحصیل ڈیرہ مراد جمالی کے امیر حاجی رحمت اللہ بنگلزئی نے کہا ہے کہ پٹ فیڈر کینال محکمہ ایریگیشن کے آفیسران کی وجہ سے اس وقت تباہی سے دو چار ہے بلوچستان کاگرین بیلٹ تباہ برباد ہو گیا ہے محکمہ ایریگیشن کرپشن اقربا پروری کا گڑھ بن چکا ہے مائنر سسٹم پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں تو دوسری جانب مائنر وں کے لیے ڈھائی کروڑ روپے جاری کر دیئے گئے کہیں بھی مائنروں پر کام نہیں ہوا ہے ٹیل کے زمینداران زرعی پانی کے حصول کے لیئے سراپا احتجاج ہیں مگر اس پر کوئی بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ چیف انجینئر اورسیکرٹر ی ایریگیشن کیزبانی احکامات پرکمشنرنصیرآباد اورڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر ایک شفاف سرو ے ہوا جس میں ثابت ہواکہ آرڈی اٹھارہ چالیس اور پچاس پر14 منظور شدہ پائپ پائے گئے جنکا شِئر75.5کیوسک بنتی ہے اور 12غیرقانونی غیرمنظور شدہ پائپس پائے گئے اور بارہ غیرمنظورشدہ پائپس کی سروے کے مطابق 105کیوسک اورسائز اور 15کیوسک لاسز یعنی پانی چوری ہورہی ہے تو ملا کر 120کیوسک نیوشٹراضافی پانی حاصل کررہے ہیں اگر یہ معاملہ چلتارہا تو کس طرح ممکن ہے کہ آرڈی60/70تک پانی کی فراہمی ممکن ہوسکیگی جو مگسی شاخ کی سروے رپورٹ کی مطابق دیگر ذیلی شاخوں میں بھی اسی طرح پانی چوری ہورہا ہے غریب کاشتکاروں اور زمینداروں کی دادرسی کرنے والا کوئی نہیںایریگیشن آفیسران کی نظریں صرف کرپشن کی طرف جمی ہوئی ہیں انہوں کہاکہ اونتم ڈیم بھی کئی سال گزرنے کے باوجود پائے تکمیل تک نہیں پہنچا کروڑوں روپئے کرپشن کی نظرہوگئے صرف جنگلات کی کٹائی کے لیئے ایک کروڑروپے نکال کر کھا لیئے گئے ہیں مگر ڈیم اب تک مکمل نہیں ہوا محکمہ ایریگیشن نے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اوچ شاخ کے مقام پر مین پٹ فیڈر کینال میں گیٹ لگا کر مزید زمینداروں اور کاشتکاروں کو تباہ و برباد کیا گیا ہے سیکرٹری ایریگیشن بلوچستان خود آ کرنصیر آباد کا دورہ کریں ان ایریگیشن آفیسران کی وجہ سے پٹ فیڈر دن بدن تباہ ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہا نصیرآباد محکمہ ایریگیشن پٹ فیڈرکینال میں بڑے پیمانیپر بیلگام کرپشن کا انکشاف انتم ڈیم اوچ کینال مائنرز اور پٹ فیڈر کینال کیشگافوں کو پر کرنے کیلئے ایمرجنسی بجٹ 6000000ساٹھ لاکھ مشینری رپیئرکی مد 2100000اکیس لاکھ بغیرٹینڈر کیڈکار لیئے گئے کروڑوں روپئے کی کرپشن کانوٹس لیا جائے کہ محکمہ ایریگیشن کے افیسران زمیندار ان کا معاشی قتل عام کر رہے ہیں کمانڈ ایریا میں بھی غیر قانونی واٹر کورسز ہیںجن کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے ہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آپریشن کی حمایت کرتے ہیں مگر آپریشن یکساں طور پر کیا جائے انہوں نے کہا کہ پٹ فیڈ ر کینال کے لیئے آنے والے کروڑو ں روپے کے ٹینڈرز بھی اپنے من پسند ٹھیکداروں کو دیئے گئے جو کہ بد نیتی پر مبنی ہیں پیفرا رولز کے مطابق جن ٹھیکداروں نے قانون کے مطابق ریٹ اپنے بھرے تھے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ اوچ شاخ سندھسے نکلتا ہے جو کہ بلوچستان کا اس میں شیئر ہے اوچ شاخ پاکستان بننے سے پہلے کی ہے اس کی لمبائی 32 میل ہے اوچ شاخ سے نکلتا ہے جو کہ شاہی وا سے پانی لیتا ہے پٹ فیڈر 366 آر ڈی کے مقام پر محکمہ ایریگیشن کے افسران نیاوچ لنک کے گیٹ کو توسیع کرکے 6x9 کاگیٹ لگا کر پٹ فیڈر کینال سے اس سال لگایا گیا ہے جس سے ہمارا پانی وہاں پر جا رہا ہے یہ گیٹ اس سال لگایا گیا ہے محکمہ ایریگیشن کے افسران نے 22سال قبل کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شجاع عالم کے جعلی دستخطوں سے جھوٹے فرضی کاغذات بناکر اوچ لنک کے گیٹ میں توسیعکی گئی اوچ لنک کا قلیل رقبہ 3352ایکڑہے باقی ماندہ پچہترفیصدپانی اوچ کینال کیغیرکمانڈ ایریا کو دیاجاتاہے اور یہ پانی اوچ کینال کے علاوہ شاہی واہ کے اوچ ایریاکوآباد کررہاہے جنکاتعلق پٹ فیڈر کینال سے وابسطہ نہیں ہے اگر یہ اس وقت منظور ہوتا تو واپڈا والے یہ اوچ کے زمیندار اس کو کیوں نہ بناتے اوچ لنک میں کل ساتھ واٹر کورسز ہیں جس کی رقبہ 3353 ایکڑ پر مشتمل ہے اس وقت اوچ لنک کے نام پر 30 ہزار ایکڑ کا پانی جارہا ہے جس میں محکمہ ایریگیشن کے افیسر ان کو کروڑوں روپے مل رہے ہیں یہ تیس ہزار ایکڑ اراضی جو کہ آباد ہو رہی ہے یہ ہمارے بلوچستان کا پانی ہے ہمیں اپنے حصہ کے پانی سے محروم رکھا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیب کو چائیے کہ وہ پٹ فیڈر کینال میں ہونے والی کرپشن کی مکمل تحقیقات کرے چیف سیکر ٹری بلوچستان ٹیل کے زمینداروں میں پانی کی فراہمی کی فراہمی کو بھی یقینی بنائیں تاکہ کاشتکاروں زمینداروں کامعاشی قتل نہ ہو۔


موضوعات: