بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی جانچنے کیلئے  پوائنٹس سسٹم متعارف، طریقہ کار بھی سامنے آگیا

datetime 12  جولائی  2020 |

لاہور(این این آئی)سی ٹی او لاہور سید حما د عابد نے کہاکہ ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی جانچنے کیلئے پوائنٹس سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی جانچنے کیلئے مثبت کاموں پر پوائنٹس جمع جبکہ ناقص کارکردگی پر پوائنٹس منفی ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق مثبت پہلوئوں میں

ٹریفک وارڈنز کے ڈسپلن اچھے کاموں، سرکاری امور کی بہتری انجام دہی پر مثبت پوائنٹس ملیں گے۔ ٹریفک وارڈنز کو اچھی شہرت پر 05 پوائنٹس، فرض شناشی پر 05 پوائنٹس،اچھے ٹرن آئوٹ پر 05 پوائنٹس ، ذمہ داری پر 05 پوائنٹس، اور اورآل کنڈٹ پر 05 پوائنٹس ملیں گے۔ جبکہ شہریوں کی مدد کرنے، دوران ڈیوٹی کسی قانون شکن عناصر کی سرکوبی اور گمشدہ اشیاء کی شہریوں تک باحفاظت واپسی  پر 10 پوائنٹس ملیں گے اسی طرح سرکاری امور کی سرانجام دہی ریکارڈ کی تکمیل پر 10 پوائنٹس ملیں گے۔ بریفنگ میں حاضر آنے پر 10 پوائنٹس ملیں گے۔ اسی طرح دوران ڈیوٹی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر موثر کارروائی پر 10 سے لے کر 100 پوائنٹس ملیں گے جس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کی وارڈنز کو چالان کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ پورے ماہ میں 24 گھنٹے غیر حاضر رہنے پر 10 پوائنٹس منفی ہوں گے۔ جبکہ 04 یوم غیر حاضر ہونے والوں کو انعام کی کیٹگری سے نکال دیا جائے گا۔ شہریوں کی طرف سے بعداز انکوائری کمپلین درست ثابت ہونے پر 15 پوائنٹس منفی ہوں گے۔ جبکہ سب سے زیادہ 50 پوائنٹس کرپشن کی شکایت پر درست ثابت ہونے پر منفی ہوں گے۔ اسی طرح معمولی سزا پر 20 پوائنٹس منفی ہوں گے اور بڑی سزا پر انعام کی کیٹگری سے نکال دیا جائے گا۔ سی ٹی او لاہور سید حماد عابد کا کہنا ہے کہ سٹی ٹریفک پولیس کا بنیادی مقصد ٹریفک کی روانی، قانون کی پاسداری اور شہریوں کو قوانین سے آگاہی دینا ہے۔ غلط چالان کسی صورت قابل قبول نہیں اور نہ ہی زیادہ چالان کرنے کا فائدہ ٹریفک وارڈنز کو  ہے۔ چالان صرف اور صرف قوانین کی خلاف ورزی پر کئے جائیں۔کورونا ایام میں چالان صرف سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں پر کئے جارہے ہیں اور معمولی خلاف ورزی پر شہریوں کو ایجوکیٹ کرتے ہوئے وارننگ دی جا رہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…