جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی جانچنے کیلئے  پوائنٹس سسٹم متعارف، طریقہ کار بھی سامنے آگیا

datetime 12  جولائی  2020 |

لاہور(این این آئی)سی ٹی او لاہور سید حما د عابد نے کہاکہ ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی جانچنے کیلئے پوائنٹس سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی جانچنے کیلئے مثبت کاموں پر پوائنٹس جمع جبکہ ناقص کارکردگی پر پوائنٹس منفی ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق مثبت پہلوئوں میں

ٹریفک وارڈنز کے ڈسپلن اچھے کاموں، سرکاری امور کی بہتری انجام دہی پر مثبت پوائنٹس ملیں گے۔ ٹریفک وارڈنز کو اچھی شہرت پر 05 پوائنٹس، فرض شناشی پر 05 پوائنٹس،اچھے ٹرن آئوٹ پر 05 پوائنٹس ، ذمہ داری پر 05 پوائنٹس، اور اورآل کنڈٹ پر 05 پوائنٹس ملیں گے۔ جبکہ شہریوں کی مدد کرنے، دوران ڈیوٹی کسی قانون شکن عناصر کی سرکوبی اور گمشدہ اشیاء کی شہریوں تک باحفاظت واپسی  پر 10 پوائنٹس ملیں گے اسی طرح سرکاری امور کی سرانجام دہی ریکارڈ کی تکمیل پر 10 پوائنٹس ملیں گے۔ بریفنگ میں حاضر آنے پر 10 پوائنٹس ملیں گے۔ اسی طرح دوران ڈیوٹی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر موثر کارروائی پر 10 سے لے کر 100 پوائنٹس ملیں گے جس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کی وارڈنز کو چالان کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ پورے ماہ میں 24 گھنٹے غیر حاضر رہنے پر 10 پوائنٹس منفی ہوں گے۔ جبکہ 04 یوم غیر حاضر ہونے والوں کو انعام کی کیٹگری سے نکال دیا جائے گا۔ شہریوں کی طرف سے بعداز انکوائری کمپلین درست ثابت ہونے پر 15 پوائنٹس منفی ہوں گے۔ جبکہ سب سے زیادہ 50 پوائنٹس کرپشن کی شکایت پر درست ثابت ہونے پر منفی ہوں گے۔ اسی طرح معمولی سزا پر 20 پوائنٹس منفی ہوں گے اور بڑی سزا پر انعام کی کیٹگری سے نکال دیا جائے گا۔ سی ٹی او لاہور سید حماد عابد کا کہنا ہے کہ سٹی ٹریفک پولیس کا بنیادی مقصد ٹریفک کی روانی، قانون کی پاسداری اور شہریوں کو قوانین سے آگاہی دینا ہے۔ غلط چالان کسی صورت قابل قبول نہیں اور نہ ہی زیادہ چالان کرنے کا فائدہ ٹریفک وارڈنز کو  ہے۔ چالان صرف اور صرف قوانین کی خلاف ورزی پر کئے جائیں۔کورونا ایام میں چالان صرف سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں پر کئے جارہے ہیں اور معمولی خلاف ورزی پر شہریوں کو ایجوکیٹ کرتے ہوئے وارننگ دی جا رہی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…