منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے نیب میں زیر التواء بڑے بڑے کیسز پر تشویش کا اظہار کر دیا، وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کی حیرت انگیز باتیں

datetime 10  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حکومت کو نیب میں زیرالتواء بڑے بڑے کیسز پر تشویش ہے ، کرپشن کیسز میں تاخیری حربے استعمال کئے جانے کے خلاف کچھ کرنا ہوگا، موجودہ حکومت نے احتساب کا نعرہ لگایا اور ہماری کوشش ہے کہ ان کیسوں کو جلدازجلد حل کریں، ماضی میں ایسے کیسز دبا دئیے جاتے تھے، ہم نے خراب حالات کے باوجود نیب کے وسائل میں اضافہ کیا،

سپریم کورٹ نے نیب میں بڑے کیسز کا نوٹس لیا، اب یقیناً یہ مسئلہ حل ہو جائیگا، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ صرف عدالتوں کی تعداد بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ہمیں ملزمان کی جانب سے تاخیری حربوں کے خاتمے کے لئے کچھ کرنا ہوگا، پہلے ہمیں ان تاخیری حربوں کو روکنے کے لئے قانون سازی کرنا ہوگی کیونکہ اگر ایک عدالت فرد جرم عائد کرنے لگتی ہے تو ملزمان بیمار ہو جاتے ہیں، وہ درخواست دائر کردیتے ہیں پھر اس درخواست کی سماعت شروع ہو جاتی ہے اسی طرح کے کئی تاخیری حربے اپنائے جاتے ہیں۔اس سوال پر کہ نیب میں کئی ریفرنس پھنسے ہوئے ہیں جن میں نامزد ملزمان میں سے کئی ایک پر بھی فردجرم عائد نہیں ہوسکی پر مشیر احتساب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب اور اٹارنی جنرل پاکستان سے پوچھا ہے کہ 130 کے قریب ریفرنسز پر کسی پر فردجرم عائد کیوں نہیں کی گئی اس پر حکومت کو تشویش ہے کیونکہ ہم اس پر کئی بار میڈیا پر بھی بات کر چکے ہیں کہ نیب میں منی لانڈرنگ اور فنڈ میں خردبرد کے کئی ریفرنسز پڑے ہیں اور ان کو جلد نمٹایا جانا چاہیے۔ ہم نے کئی بار کہا کہ اگر کوئی قانونی مدد چاہیے تو حکومت وہ بھی دینے کو تیار ہے۔ ان ریفرنسز کو جلد نمٹایا جائے۔ عدالتوں کے اندر بھی یہی چیز تھی اب سرپیم کورٹ نے جو نوٹس لیا ہے تو یہ مسئلہ اپنے حل کی طرف جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے اور حکومت نے نیب سے مدد مہیا

کرنے کے لئے متعدد بار پوچھا، انہوں نے کہا کہ قانون کے اندر موجود ہے کہ جب بھی کسی ملزم پر فردجرم عائد ہو رہی ہو تو اس کو خود پیش ہونا ضروری ہے مگر ملزم جب فردجرم عائد کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ پیش نہیں ہوتا اور بیماری کا بہانہ بنا لیا جاتا ہے اس طرح جب آرڈر کو ملزم چیلنج کر دیتا ہے تو پھر اپیل کا پراسیس شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے تاخیری حربوں کا حل نکالنا ہوگا تب جا کر زیرالتواء پڑے بڑے کیسز کا حل سامنے آئیگا۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ گر آپ جعلی اکائونٹس کیس کو دیکھیں تو موجودہ نظام نے کروٹ تو لی ہے جبکہ ماضی میں اس طرح کیسز دبا دئیے جاتے تھے مگر موجودہ حکومت کے دور میں اداروں کو طاقت ملی ہے اور وہ آزاد ہو کر ان کیسز کو نمٹانے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نیب سمیت کیسز کی تحقیقات کرنے والے اداروں کو مراعدات دیں، ملازمین کی تنخواہوں میں اٖضافہ کیا۔ ہر سہولت اداروں کو دی گئی تاکہ سب سے بڑا نعرہ تھا کہ ہم احتساب کرینگے اور یہ ہماری اولین ترجیح بھی ہے کہ یہ کیسز منطقی انجام کو پہنچیں اور ہم عدلیہ کی جانب سے نوٹس لینے پر ان کے شکر گزار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…