جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

لڑکیوں کیلئے شادی کی عمر کم از کم 18سال ،خواتین ارکان اسمبلی نے بڑا قدم اٹھانے کااعلان کردیا

datetime 10  جولائی  2020 |

لاہور (آن لائن) ارکان پنجاب اسمبلی کا لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سال سے 18سال تک بڑھانے کا مطالبہ، کم عمری کی شادی لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیتی ہے ،کم عمری کی شادی پڑھے لکھے ، صحت مند اور خوشحال گھرانے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے،سماجی تنظیم ’’برگد‘‘ کے زیراہتمام کم عمر ی کی شادیوں کے حوالے سے آن لائن کانفرنس ہوئی۔

جس میں رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم ،بشری انجم ،رومینہ خورشیدعالم،منیب الحق،سعدیہ سہیل،سمیرا بخاری ،نورعمران ،سلمیٰ بٹ سمیت سول سوسائٹی اور طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی،لیگی ایم این اے رومینہ خورشید عالم نے کہا کم عمری کی شادی ہمارے دیہی علاقوں میں غربت کی بہت بڑی وجہ ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک جو غذا کی کمی کا بڑے پیمانے پر شکار ہے۔ نشوونما میں رکاوٹ ، خوراک کا ضیاء اور غذائیت کی کمی پاکستان میں علاقائی وبائیں ہیں۔سعدیہ سہیل رانا نے کہا گورنمنٹ اس ترقی پسند قانون سازی کو لاگو کرنے کے حوالے سے پر اعتماد ہے۔جلد پنجاب میں لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 18سال متعین کر دی جائے گی۔سمیر ابخاری نے کہا پنجاب اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین ممبران کم عمری کی شادی کے مسئلے پر متفق ہیں۔ ہم پنجاب اسمبلی میں ایک دن مختص کر یں گے جس میں کم عمری کی شادی کے مسئلے پر گفتگو کی جائے گی۔ لڑکیوں کی شادی کی عمر کی حد کو 16سے بڑھا کر 18سال کرنے کی ترمیم پیش کی جائے گی۔بشری انجم نے کہا ہمیں عورتوں کو معاشی اور سماجی ترقی کے عمل میں شامل کرنا چاہئے ۔ ہمیں لڑکیوں کے حوالے سے نقصان دہ راویات کو ختم کرنا چاہئے۔منیب الحق نے کہا ایک مرد ایم پی اے ہوتے ہوئے بھی وہ ناصرف اس مہم کا حصہ ہو۔ بلکہ وہ کسی بھی جگہ اس کی حمایت کے لئے تیار ہیں۔راحیل خادم نے کہا پاکستان میں 21فیصد لڑکیوں کی شادی 18سال 3فیصد لڑکیوں کی شادی 15سال کی عمرمیں ہوجاتی ہے۔قائداعظم بھی کم عمری کی شادی کو ایک سماجی برائی قرار دیتے تھے۔ تمام مذاہب کے رہنماؤں کو بھی اس کاوش میں شامل کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…