لڑکیوں کیلئے شادی کی عمر کم از کم 18سال ،خواتین ارکان اسمبلی نے بڑا قدم اٹھانے کااعلان کردیا

  جمعہ‬‮ 10 جولائی‬‮ 2020  |  16:45

لاہور (آن لائن) ارکان پنجاب اسمبلی کا لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 سال سے 18سال تک بڑھانے کا مطالبہ، کم عمری کی شادی لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیتی ہے ،کم عمری کی شادی پڑھے لکھے ، صحت مند اور خوشحال گھرانے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے،سماجی تنظیم ’’برگد‘‘ کے زیراہتمام کم عمر ی کی شادیوں کے حوالے سے آن لائن کانفرنس ہوئی۔جس میں رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم ،بشری انجم ،رومینہ خورشیدعالم،منیب الحق،سعدیہ سہیل،سمیرا بخاری ،نورعمران ،سلمیٰ بٹ سمیت سول سوسائٹی اور طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی،لیگی ایم این اے رومینہ خورشید


عالم نے کہا کم عمری کی شادی ہمارے دیہی علاقوں میں غربت کی بہت بڑی وجہ ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک جو غذا کی کمی کا بڑے پیمانے پر شکار ہے۔ نشوونما میں رکاوٹ ، خوراک کا ضیاء اور غذائیت کی کمی پاکستان میں علاقائی وبائیں ہیں۔سعدیہ سہیل رانا نے کہا گورنمنٹ اس ترقی پسند قانون سازی کو لاگو کرنے کے حوالے سے پر اعتماد ہے۔جلد پنجاب میں لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 18سال متعین کر دی جائے گی۔سمیر ابخاری نے کہا پنجاب اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین ممبران کم عمری کی شادی کے مسئلے پر متفق ہیں۔ ہم پنجاب اسمبلی میں ایک دن مختص کر یں گے جس میں کم عمری کی شادی کے مسئلے پر گفتگو کی جائے گی۔ لڑکیوں کی شادی کی عمر کی حد کو 16سے بڑھا کر 18سال کرنے کی ترمیم پیش کی جائے گی۔بشری انجم نے کہا ہمیں عورتوں کو معاشی اور سماجی ترقی کے عمل میں شامل کرنا چاہئے ۔ ہمیں لڑکیوں کے حوالے سے نقصان دہ راویات کو ختم کرنا چاہئے۔منیب الحق نے کہا ایک مرد ایم پی اے ہوتے ہوئے بھی وہ ناصرف اس مہم کا حصہ ہو۔ بلکہ وہ کسی بھی جگہ اس کی حمایت کے لئے تیار ہیں۔راحیل خادم نے کہا پاکستان میں 21فیصد لڑکیوں کی شادی 18سال 3فیصد لڑکیوں کی شادی 15سال کی عمرمیں ہوجاتی ہے۔قائداعظم بھی کم عمری کی شادی کو ایک سماجی برائی قرار دیتے تھے۔ تمام مذاہب کے رہنماؤں کو بھی اس کاوش میں شامل کیا جائے ۔


موضوعات: