جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے،ہم نے چوہدری شجاعت فارمولہ کے تحت ’’مٹی پاؤ‘‘ والی پالیسی اپنائی،حافظ حسین احمد نے کسے ٹیسٹ ٹیوب باپ قرار دیدیا

datetime 8  جولائی  2020 |

کوئٹہ( آن لائن ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے صدر ایمل ولی خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے ان کے بڑے ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن کاش چھوٹے بھی اس احترام کے رشتے کا پاس رکھتے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخواہ سمیت تمام تر تنظیموں اور زعماء کو اس حوالے سے لب کشائی سے منع کیا ہے

تاکہ آنے والے دنوں میں ہمارے یہ بھائی اور ان کے قائدین اپوزیشن میں اپنا 100فیصد کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ صوبہ بلوچستان کی سطح پر اور مرکز میں ان کی پالیسی میں بھی ہم آہنگی نہیں بلوچستان میں انہوں نے ’’ٹیسٹ ٹیوب باپ‘‘ کو اپنایا توظاہر ہے کہ اس کے اثرات کہی نہ کہی سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں اسفند یار ولی اور دیگر قائدین نے ہمیں عزت بخشی تشریف لائے اور ہمیں اب بھی توقع ہے کہ وہ اسی انداز بلکہ اس سے بڑھ کر جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کا ثبوت دیں گے، حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ ایمل ولی خان کے بیان پر ہم نے چوہدری شجاعت فارمولہ کے تحت اس بیان کے حوالے سے ’’مٹی پاؤ‘‘ والی پالیسی اپنائی ہے اور ہم نے تمام تر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہدایات جاری کیں ہے کہ اس مسئلے پر ’’مٹی پاؤ‘‘اور اپوزیشن کے مستقبل کے اتحاد اور یکجہتی کے حوالے سے اپنا رول ادا کریں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین اور رہنما اس جذبے کو اہمیت دیں گے۔  سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے صدر ایمل ولی خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے ان کے بڑے ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن کاش چھوٹے بھی اس احترام کے رشتے کا پاس رکھتے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخواہ سمیت تمام تر تنظیموں اور زعماء کو اس حوالے سے لب کشائی سے منع کیا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ہمارے یہ بھائی اور ان کے قائدین اپوزیشن میں اپنا 100فیصد کردار ادا کریں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…