جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے،ہم نے چوہدری شجاعت فارمولہ کے تحت ’’مٹی پاؤ‘‘ والی پالیسی اپنائی،حافظ حسین احمد نے کسے ٹیسٹ ٹیوب باپ قرار دیدیا

datetime 8  جولائی  2020 |

کوئٹہ( آن لائن ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان و سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے صدر ایمل ولی خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے ان کے بڑے ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن کاش چھوٹے بھی اس احترام کے رشتے کا پاس رکھتے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخواہ سمیت تمام تر تنظیموں اور زعماء کو اس حوالے سے لب کشائی سے منع کیا ہے

تاکہ آنے والے دنوں میں ہمارے یہ بھائی اور ان کے قائدین اپوزیشن میں اپنا 100فیصد کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ صوبہ بلوچستان کی سطح پر اور مرکز میں ان کی پالیسی میں بھی ہم آہنگی نہیں بلوچستان میں انہوں نے ’’ٹیسٹ ٹیوب باپ‘‘ کو اپنایا توظاہر ہے کہ اس کے اثرات کہی نہ کہی سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ میں اسفند یار ولی اور دیگر قائدین نے ہمیں عزت بخشی تشریف لائے اور ہمیں اب بھی توقع ہے کہ وہ اسی انداز بلکہ اس سے بڑھ کر جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کا ثبوت دیں گے، حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ ایمل ولی خان کے بیان پر ہم نے چوہدری شجاعت فارمولہ کے تحت اس بیان کے حوالے سے ’’مٹی پاؤ‘‘ والی پالیسی اپنائی ہے اور ہم نے تمام تر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہدایات جاری کیں ہے کہ اس مسئلے پر ’’مٹی پاؤ‘‘اور اپوزیشن کے مستقبل کے اتحاد اور یکجہتی کے حوالے سے اپنا رول ادا کریں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے اکابرین اور رہنما اس جذبے کو اہمیت دیں گے۔  سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے صدر ایمل ولی خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایمل کا نہیں ’’ولی‘‘ کا خیال ہے ان کے بڑے ہمارے لیے قابل احترام ہیں لیکن کاش چھوٹے بھی اس احترام کے رشتے کا پاس رکھتے، انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ خیبرپختونخواہ سمیت تمام تر تنظیموں اور زعماء کو اس حوالے سے لب کشائی سے منع کیا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں ہمارے یہ بھائی اور ان کے قائدین اپوزیشن میں اپنا 100فیصد کردار ادا کریں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…