ہفتہ‬‮ ، 01 اگست‬‮ 2026 

عزیر بلوچ کے کارناموں کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آ گئی

datetime 3  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے لیاری کا بے تاج بادشاہ کہلانے والے عزیر بلوچ کے کارناموں کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے۔سندھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ پیر کو پبلک کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے 198 افراد کو مارنے کا اعتراف کیا۔جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عزیر بلوچ نے لسانی اور گینگ وار تنازع میں تمام افراد کو قتل کیا۔

اس نے اثرورسوخ کی بنیاد پر 7 ایس ایچ اوز تعینات کروائے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عزیر بلوچ نے اقبال بھٹی کو ٹی پی او لیاری تعینات کروایا جبکہ 2019 میں محمد رئیس کو ایڈمنسٹر لیاری لگوایا۔ ملزم کے بیرون ملک فرار کے باوجود ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ دبئی بھیجا جاتا رہا۔2008 سے 2013 کے دوران مختلف ہتھیار خریدنے کا انکشاف بھی جے آئی ٹی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جبکہ ملزم کے متعدد افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔خیال رہے کہ سندھ حکومت نے جے آئی ٹیز پبلک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں آصف زرداری اور فریال تالپور کا ذکر نہیں ہے۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ تینوں جے آئی ٹیز رپورٹس سندھ حکومت پبلک کرنے جا رہی ہے۔ انھیں پیر کے روز ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…