جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ہم اپنی شان دار پالیسی کے ذریعے کورونا کو اکتوبر نومبر تک لے جا رہے ہیں،حالات کا بلڈوزر کسی بھی وقت اس حکومت کو کچل دے گا‘ تنکوں کی ڈور کھل رہی ہےیہ کسی بھی وقت گر جائے گی اور حکومت اس کے بعد تنکا تنکا ہو کر بکھر جائے گی اور اس کے بعدذہین ترین وزراء زرتاج گل کے ساتھ بیٹھ کر کووڈ 19 کے 19 پوائنٹس گنتے رہ جائیں گے، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 25  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’فواد چودھری سچ کہہ رہے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ہم اپنی شان دار پالیسی کے ذریعے کورونا کو اکتوبر نومبر تک لے جا رہے ہیں‘ ہم شاید اس وقت دنیا کے واحد ملک ہوں گے جس میں دسمبر میں بھی کورونا کے مریض موجود ہوں گے اور ہمارے وزیراعظم ”میں لاک ڈاؤن کے خلاف ہوں“ کے دعوے بھی فرما رہے ہوں گے‘ آ پ دنیا کی

”ناکام پالیسیاں“ دیکھیے‘ دنیا نے مارچ میں لاک ڈاؤن شروع کیا اور تین ماہ بعد جون میں کورونا پر قابو پا لیا جب کہ ہماری ”کام یاب پالیسیوں“ نے اس مرض کو آٹھ ماہ تک پھیلا دیا اور ہم اس پر ڈھول بھی بجا رہے ہیں چناں چہ فواد چودھری کی کون سی بات‘ کون سا اندازہ غلط ہے؟۔میں ان کا فین تھا لیکن میں اب ان کا بہت بڑا فین ہو چکا ہوں‘ حکومت کے اندر رہ کر حکومت کے بارے میں ایسی کلیئر لائین لینا آسان نہیں ہوتا‘ اس کے لیے شیر کا کلیجہ چاہیے ہوتا ہے اور فواد چودھری نے خود کو شیر ثابت کر دیا‘ چودھری صاحب نے پوری پارٹی کو بتادیا میں جینوئن سیاست دان بھی ہوں اور پارٹی کا وفادار بھی لہٰذا میں کل سے ان کی زیادہ عزت کر رہا ہوں‘ وزیراعظم کو چاہیے یہ ان کی بات غور سے سنیں اور آنکھیں کھولیں ورنہ ملک اور پارٹی دونوں تباہ ہو جائیں گے۔میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری اور ان سے پہلے بے نظیر بھٹو شکوہ کرتی تھیں ہمیں ہر بار حکومت ملی ‘ اقتدار نہیں ملا لیکن آج پاکستان تحریک انصاف کے وزراءاپنے منہ سے کر کہہ رہے ہیںپچھلی حکومتوں کو اقتدار نہیں ملتا تھا جب کہ ہمیں تو حکومت بھی نہیں ملی ‘ اس فیلیئر‘ اس سانحے کاکون ذمہ دار ہے؟ اس کا صرف ایک ہی شخص ذمہ دار ہے اور وہ ہے عمران خان۔وزیراعظم کو اگر ٹیم اچھی نہیں ملی تو یہ ان کا قصور ہے‘ عوام نے انہیں مینڈیٹ دے دیا تھا اور ریاست نے ان کے راستے کے سارے کانٹے نکال دیے تھے لیکن یہ اگر اس کے باوجود ڈیلیور نہیں کر سکے‘ یہ اگر اس کے باوجود پٹرول‘ چینی اور آٹا کنٹرول نہیں کر سکے تو یہ پھر کس کا قصور ہے؟صرف اور صرف عمران خان کا لہٰذا میں سمجھتا ہوں پانچ چھ ماہ بہت دور ہیں۔حالات کا بلڈوزر کسی بھی وقت اس حکومت کو کچل دے گا‘ تنکوں کی ڈور کھل رہی ہے‘ یہ کسی بھی وقت گر جائے گی اور حکومت اس کے بعد تنکا تنکا ہو کر بکھر جائے گی اور اس کے بعد ذہین ترین وزراءزرتاج گل کے ساتھ بیٹھ کر کووڈ 19 کے 19 پوائنٹس گنتے رہ جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…