جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

ہم اپنی شان دار پالیسی کے ذریعے کورونا کو اکتوبر نومبر تک لے جا رہے ہیں،حالات کا بلڈوزر کسی بھی وقت اس حکومت کو کچل دے گا‘ تنکوں کی ڈور کھل رہی ہےیہ کسی بھی وقت گر جائے گی اور حکومت اس کے بعد تنکا تنکا ہو کر بکھر جائے گی اور اس کے بعدذہین ترین وزراء زرتاج گل کے ساتھ بیٹھ کر کووڈ 19 کے 19 پوائنٹس گنتے رہ جائیں گے، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 25  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’فواد چودھری سچ کہہ رہے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ہم اپنی شان دار پالیسی کے ذریعے کورونا کو اکتوبر نومبر تک لے جا رہے ہیں‘ ہم شاید اس وقت دنیا کے واحد ملک ہوں گے جس میں دسمبر میں بھی کورونا کے مریض موجود ہوں گے اور ہمارے وزیراعظم ”میں لاک ڈاؤن کے خلاف ہوں“ کے دعوے بھی فرما رہے ہوں گے‘ آ پ دنیا کی

”ناکام پالیسیاں“ دیکھیے‘ دنیا نے مارچ میں لاک ڈاؤن شروع کیا اور تین ماہ بعد جون میں کورونا پر قابو پا لیا جب کہ ہماری ”کام یاب پالیسیوں“ نے اس مرض کو آٹھ ماہ تک پھیلا دیا اور ہم اس پر ڈھول بھی بجا رہے ہیں چناں چہ فواد چودھری کی کون سی بات‘ کون سا اندازہ غلط ہے؟۔میں ان کا فین تھا لیکن میں اب ان کا بہت بڑا فین ہو چکا ہوں‘ حکومت کے اندر رہ کر حکومت کے بارے میں ایسی کلیئر لائین لینا آسان نہیں ہوتا‘ اس کے لیے شیر کا کلیجہ چاہیے ہوتا ہے اور فواد چودھری نے خود کو شیر ثابت کر دیا‘ چودھری صاحب نے پوری پارٹی کو بتادیا میں جینوئن سیاست دان بھی ہوں اور پارٹی کا وفادار بھی لہٰذا میں کل سے ان کی زیادہ عزت کر رہا ہوں‘ وزیراعظم کو چاہیے یہ ان کی بات غور سے سنیں اور آنکھیں کھولیں ورنہ ملک اور پارٹی دونوں تباہ ہو جائیں گے۔میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری اور ان سے پہلے بے نظیر بھٹو شکوہ کرتی تھیں ہمیں ہر بار حکومت ملی ‘ اقتدار نہیں ملا لیکن آج پاکستان تحریک انصاف کے وزراءاپنے منہ سے کر کہہ رہے ہیںپچھلی حکومتوں کو اقتدار نہیں ملتا تھا جب کہ ہمیں تو حکومت بھی نہیں ملی ‘ اس فیلیئر‘ اس سانحے کاکون ذمہ دار ہے؟ اس کا صرف ایک ہی شخص ذمہ دار ہے اور وہ ہے عمران خان۔وزیراعظم کو اگر ٹیم اچھی نہیں ملی تو یہ ان کا قصور ہے‘ عوام نے انہیں مینڈیٹ دے دیا تھا اور ریاست نے ان کے راستے کے سارے کانٹے نکال دیے تھے لیکن یہ اگر اس کے باوجود ڈیلیور نہیں کر سکے‘ یہ اگر اس کے باوجود پٹرول‘ چینی اور آٹا کنٹرول نہیں کر سکے تو یہ پھر کس کا قصور ہے؟صرف اور صرف عمران خان کا لہٰذا میں سمجھتا ہوں پانچ چھ ماہ بہت دور ہیں۔حالات کا بلڈوزر کسی بھی وقت اس حکومت کو کچل دے گا‘ تنکوں کی ڈور کھل رہی ہے‘ یہ کسی بھی وقت گر جائے گی اور حکومت اس کے بعد تنکا تنکا ہو کر بکھر جائے گی اور اس کے بعد ذہین ترین وزراءزرتاج گل کے ساتھ بیٹھ کر کووڈ 19 کے 19 پوائنٹس گنتے رہ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…