جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

’’ٹڈی کھانے سے کورونا ختم ہو سکتا ہے‘‘ حکومتی اہم رکن کے بیان نے تہلکہ مچا دیا

datetime 25  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتی رکن ریاض فتیانہ نے کہا ہے ٹڈی دل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکو کھانے سے کورونا ختم ہوسکتا ہے، حکومت ٹڈی دل کے حوالے سے سے تحقیق کروا لے اگر یہ حقیقت ہے تو قوم ٹڈی دل کا خود ہی تیا پانچا کردے گی۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا فصلوں اور مویشیوں کی انشورنش کروائی جائے۔خیال رہے پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے،

ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 92 ہزار 970 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں 148 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد 3 ہزار 903 ہوگئی۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے ٹڈیوں سے بائیو کمپوسٹ کھاد بنانے کا منصوبہ تیار کرلیا۔وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹڈی دل سے کھاد بنانے کا منصوبہ منظوری کے مرحلےمیں ہے اورٹڈی دل کوبائیو کمپوسٹ کھاد میں تبدیل کیا جائے گا۔قومی موقر نامے کی رپورٹ کے مطابق وزرات نے بتایا کہ اس منصوبے سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا، کھاد بنے گی اور ٹڈی دل پر کنٹرول بھی ہوسکے گا۔اعلامیے کے مطابق مقامی افراد کی جمع کی ہوئی ٹڈیوں کو بائیو کمپوسٹ میں تبدیل کیا جائے گا، ٹڈیوں سے بنی کھادمیں 9 فیصد نائٹروجن اور 7 فیصد فاسفورس ہوگا، ٹڈی دل سے اعلیٰ نامیاتی کھاد بنے گی جسے زرعی شعبے میں استعمال کیا جائے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نامیاتی زرعی کھاد کے استعمال کے فروغ کے لیے مارکیٹنگ اور تقسیم کا طریقہ کاربھی بنایا جائے گا جب کہ پائلٹ پراجیکٹ کی ٹیسٹنگ چولستان اور تھر میں کی جائے گی۔اعلامیے کے مطابق ٹڈیاں جمع کرنے کے تحت کمیونٹی کے لیے بہاولپور، عمرکوٹ، لکی مروت، خاران ڈرائی لینڈ سینٹرآف بلوچستان، تربت، لسبیلا اور خضدار میں مراکز قائم کیے جائیں گے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ٹڈیوں سے بنی کھاد سے فصلوں کی پیداواری صلاحیت 10 سے 15 فیصد بہتر ہوگی جب کہ کیمیائی کھادوں کے

استعمال میں 25 فیصد تک کمی آئے گی۔اعلامیے کے مطابق منصوبے کے پہلے سال ایک ارب روپے کی کھاد تیار کی جائے گی، ایک لاکھ ٹن ٹڈیوں میں سے 70،000 ٹن کھاد تیار کی جائے گی، اس پروجیکٹ کے تحت فی خاندان اوسطاً 6 ہزار روپے ماہانہ کما سکتا ہے۔خیال رہے کہ ملک کے مختلف اضلاع میں ٹڈی دل نے فصلوں پر

حملہ کرکے کسانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے جب کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے کئی ہیکٹر اراضی پر اسپرے کیا گیا تاہم ٹڈیوں کے حملے جاری ہیں۔دوسری جانب امریکی جریدے بلوم برگ نے رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ کورونا وائرس سے بڑا معاشی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…