بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کرونا سے پریشان حال عوام پر ایک اور بوجھ، سندھ میں آٹے کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

datetime 5  جون‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)سندھ میں موثر پرائس کنٹرول حکمت عملی کی عدم موجودگی اور گندم کے بحران کے نتیجے میں فلور ملوں کو گندم کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے جبکہ آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا۔فلور ملوں کے مالکان نے گزشتہ روز آٹے کی قیمت میں فی کلو 2 روپے اضافہ کردیا جبکہ اس سے محض دو روز قبل ہی 3 کلوآٹے پر ایک روپے کا اضافہ کردیا تھا۔

فلور مل مالکان کے مطابق 2.5 نمبر آٹے کی قیمت فی کلو 46 روپے سے 48 روپے جبکہ فائن اور سپر فائن آٹا(میدہ) کی قیمت فی کلو52.50 ہوگئی ہے جو 50 روپے فی کلو تھی۔نئی قیمتوں کے مطابق 10 کلو آٹے کی قیمت 465 روپے بجائے 485 روپے مقرر کردی گئی ہے۔شہری حکومت کے موثر پرائس کنٹرول نظام کے ناپید ہونے کے باعث فلور مل مالکان نے گزشتہ 35 روز میں فی کلو آٹے کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ کردیا ہے۔سندھ حکومت نے قیمت میں اچانک اضافے اور ملوں میں موجود آٹے کے ذخیرہ سے متعلق تحقیقات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔دوسری جانب مل مالکان نے آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ اندرون سندھ سے گندم میں عدام فراہمی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اوپن مارکیٹ میں گندم بڑی مشکل سے دستیاب ہے، جن تاجروں کے پاس گندم کا ذخیرہ ہے وہ 100 کلو گرام گندم 4 ہزار 550 روپے پر فروخت کررہے ہیں جو 4 ہزار 350 میں 200 کا اضافہ ہے’۔مل مالک کا کہنا تھا کہ ایک ماہ قبل اسی گندم کی قیمت 4 ہزار تھی اور مئی کے تیسرے ہفتے میں گندم کا تھیلا 3 ہزار 500 میں دستیاب تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…