جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

فواد حسن فواد کے بھائی پر سنگین الزامات ، نیب نے تحقیقات کا آغاز کردیا

datetime 2  جون‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن) دریائے سواں کی زمین پرقبضہ کر کے پلاٹ فروخت کرنے اور تعمیرات کروانے کے جرم میں قومی احتساب بیورو نے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے بھائی اور سی ڈی اے کے ڈائریکٹر ہائوسنگ سوسائیٹیز ملک فراز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔

ملزمان نے دریائے سواں کے اندر 300 کنال سے زائد زمین پر پلاٹوں کی خرید و فروخت کی اور ان پر تعمیرات بھی کروائیں۔ یہ سارا کھیل ریور گارڈن ہائوسنگ سوسائٹی کو فائدہ دینے کے لئے رچایا گیا ۔ ریور گارڈن کی پشت پر سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے چھوٹے بھائی نے مبینہ طور پر براہ راست ملک فراز سے مل کر دریا کا راستہ تنگ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق نیب حکام نے دریائے سواں کو تنگ کر کے اس کی 300 کنال سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنے اور دریا کے اندر تک تعمیرات کروانے کے جرم میں تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔ اس بڑے سکینڈل کا مرکزی کردار اگرچہ سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کا چھوٹا بھائی ہے لیکن اس کرپشن کا اصل ماسٹر مائنڈ سی ڈی اے کا سالہا سال تک ڈائریکٹر ہائوسنگ سوسائیٹیز کے عہدے پر براجمان شخص ملک فراز کو قرار دیا جا رہا ہے ۔وفاقی دارالحکومت سے 100 سے زائد غیر قانونی ہائوسنگ سوسائیٹیوں کو چھتری فراہم کرنے والے ملک فراز کے خلاف اس میگا سکینڈل میں ناقابل تردید دستاویزات نیب کو فراہم کی گئی ہیں ۔ نیب کو دی جانے والی دستاویزات میں بتایا گیا تھا کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر ہائوسنگ سوسائیٹیز ملک فراز نے دریائے سواں کی زمین پر دانستہ قبضہ کروایا اور پھر مبینہ طورپر اپنا حصہ بھی وصول کیا ۔

درخواست گزاروں کی طرف سے انکشاف کیا گیا تھا کہ ایک طرف دریائے سواں کی زمین پر قبضہ کر کے غیر قانونی پلاٹنگ کی گئی جبکہ دوسری طرف یہ پلاٹ خریدنے والے شہریوں کے لئے تباہی کا سامان بھی پیدا کر دیا گیا کیونکہ مون سون کی بارشوں میں سیلابی ریلوں کی آمد سے دریائے سواں کے قریب و جوار میں بڑی تباہی کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق سی ڈی اے کی طرف سے نیب کو شریک جرم ڈائریکٹر بارے باضابطہ آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ دریں اثناء یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیب حکام یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کرپشن میں فواد حسن فواد کا براہ راست کردار کیا تھا؟ اور انہوں نے اس سے کس شکل میں فائدہ حاصل کیا ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی قائم غیر قانونی ہائوسنگ سوسائیٹیوں کی پشت پناہی بھی ملک فراز کرتا ہے اور قانونی ہائوسنگ سوسائیٹیوں میں غیر قانونی کاموں کو تحفظ بھی ملک فراز ہی فراہم کرتا چلا آ رہا ہے ۔ سی ڈی اے ذرائع کے مطابق کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائیٹیوں کے ماسٹر پلان میں تبدیلیاں بھی ملک فراز کی آشیرباد سے ہوئیں اور شہری اربوں روپے سے محروم ہو گئے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…