بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بھی کرونا وائرس کے مریضوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ، نئے آنے والے مریضوں کو کہاں بھیجا جانے لگا ؟

datetime 1  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بھی کرونا وائرس کے مریضوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہوگئی ، پمز میں 31 خالی بیڈ تو موجود مگر وینٹی لیٹر نہ ہونے کے سب ڈاکٹرزمریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھیجنے پر مجبور ہوگئے ۔ پمز حکام نے بتایاکہ اب تک حکومت کی جانب سے ایک بھی نیا وینٹی لیٹر نہیں ملا۔ ذرائع پولی کلینک کے مطابق پولی کلینک ہسپتال کا بھی یہی حال ہے،

پمز ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں 75 بستروں پر چوالیس مریض زیر علاج ہیں،پمز ہسپتال میں صرف گیارہ وینٹی لیٹرز موجود ہیں ،ڈاکٹرز نئے سیریس مریضوں کو کسی اور ہسپتال جانے کا کہہ رہے ہیں، پمز حکام کے مطابق گیارہ ویٹی لیٹرز میں سے آٹھ سرجیکل وارڈ ور دیگر تین کارڈیک وارڈ سے گزشتہ دنوں ہی لیے گئے ہیں۔پمز حکام کے مطابق وینٹی لیٹرز کی کمی کا معاملہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر ظفر مرزا کے سامنے اٹھایا، ظفر مرزا نے عارضہ قلب وارڈ بند کر کے تمام وینٹی لیٹر آئسولیشن وارڈ کو دے دینے کا مشورہ دیا۔پمز انتظامیہ نے ظفر مرزا کا مشورہ قابل عمل نہ جانتے ہوئے رد کر دیا تھا،پولی کلینک میں صرف سات وینٹی لیٹرز موجود اور بائیس بستر پر مشتمل آئسولیشن سنٹر کی سہولت میسر ہے۔ ترجمان وزارت صحت کے مطابق اب تک ایک بھی ایسا مریض نہیں جسے وینٹی لیٹر نہ ملا ہو، روزانہ میٹنگ کرتے ہیں حالات قابو میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…