پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

وزیر اعظم عمران خان شوگر انکوائری کمیٹی بنائیں،سندھ میں وزرا غلط بیانی سے کام لیتے ہیں،فردوس شمیم نقوی نے کرپٹ عناصر کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 1  جون‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے انصاف ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی ناکامیوں کی طویل داستان ہے۔سندھ میں وزرا غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ حکومت نے کسی شوگر مل کو سبسڈی نہیں دی انہوں نے سبسڈی دوسروں کے زریعے شوگر ملوں تک پہنچائی۔ 18 شوگر ملیں سندھ میں زرداری صاحب کے

دوستوں کی ہیں۔سندھ میں کل 34 شوگر ملز ہیں۔ہم وزیر اعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کے لیے شوگر انکوائری کمیٹی بنائی جائے،اس موقع پر مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ، رکن قومی اسمبلی جے پرکاش،سربراہ بیت المال سندھ حنید لاکھانی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ 2004 تک سندھ میں 28 جبکہ آج تک 38 شوگر ملز ہیں، اومنی گروپ کے زریعے 53 بلین قرضہ لیا گیا۔گورنر اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ بینک کا آڈٹ کیا جائے۔ مرتضی وہاب، ناصر حسین شاہ ٹھٹہ شوگر مل کا حساب دیں،دادو شوگر ملز کو بھی برباد کیا گیا ہے۔نیب جے آئی ٹی رپورٹ میں ہیر پھیر کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرے۔وزیر اعظم عمران خان سندھ میں فنانشل ایمرجنسی عائد کریں۔اس موقع پر مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں بڑی چوری کی ہے، اومنی گروپ کو نوازا گیا ہے۔اومنی گروپ کو کامیابی دی گئی اور سندھ کو مزید تنزلی کا شکار بنایا گیا۔ 20 ارب کی شاہد خاقان اور 4 بلین کی مراد علی شاہ نے سبسڈی دی۔سندھ میں ہر ادارہ تباہ ہوچکا ہے۔ یہاں اسکولز اور کالجز تو بنا دئے گئے ہیں لیکن وہاں تعلیم میسر نہیں ہے۔ وزیرصحت گمشدہ ہیں کہیں نظر نہیں آتیں۔ سندھ کے عوام ان چوروں اور لٹیروں سے نجات چاہتے ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اگر غلط تھی تو انہیں لٹکا دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج انسداد تمباکو کا عالمی دن ہے، تمباکو نوشی سے 60 فیصد پاکستانی متاثر ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی جائے۔رکن قومی اسمبلی

جئے پرکاش نے کہا کہ تھر کی حالت 18 ترمیم کے بعد مزید خراب ہوئی ہے۔ صحت و تعلیم کا نظام صوبائی حکومت کے پاس ہے، جبکہ سندھ حکومت عوام کے حقوق کھا رہی ہے۔،بعد ازاں سربراہ بیت المال سندھ حنید لاکھانی نے کہا کہ صحافیوں کی غیر جانبداری سے ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو سچ دکھائیں۔مراد علی شاہ کے پیچھے بھی زرداری ہے، پیپلز پارٹی نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…