بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مریم، نوازشریف کی تصویر کے باوجود سینے پر تمغہ سجانے  کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں ‘فیاض الحسن کا شدید ردعمل

datetime 31  مئی‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ نوازشریف اور شہبازشریف دونوں بھائیوں میں منافقت اور غلط بیانی کی قدر مشترک ہے، مریم نواز، نوازشریف کی حالیہ تصویر پر بھی سینے پر تمغہ امتیاز سجانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔نوازشریف کی تازہ ترین تصویر پرردعمل میں فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ نوازشریف کہتے تھے کہ ان سے زیادہ کوئی بیمار نہیں

مگر لندن میں کورونا وائرس کی وبا میں بھی وہ ڈھٹائی کے ساتھ ماسک کے بغیر بیٹھے ہیں جبکہ شہبازشریف کہتے تھے کہ ان سے زیادہ دلیر کوئی نہیں اور وہ لندن سے واپس آ کر کورونا سے لڑنے کی بجائے ڈرنے میں مصروف ہیں۔فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ نوازشریف اور شہبازشریف دونوں بھائی غلط بیانی اورمنافقت کا اعلی شاہکار ہیں، نوازشریف کی موجودہ تصویر آل شریف کے لئے شرمندگی کاباعث بننا چاہئے تھی مگر مریم نواز کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس تصویر پر بھی سینے پر تمغہ امتیاز سجانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔فیاض چوہان نے مزید کہا کہ شہبازشریف نیب میں دائر ہونے والے متوقع ٹی ٹی ریفرنس سے بچنے کے لئے شاہد خاقان عباسی جیسے مہرے کو میڈیا میں استمعال کر رہے ہیں، شاہد خاقان عباسی خود سر سے پاوں تک کرپشن کی خارش کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی سیاست ٹی ٹی، اقربا پروری، منافقت اوربزدلی کا شکار ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…