پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

ہم رسک نہیں لے سکتے ، سندھ حکومت نے تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا اعلان کر دیا

datetime 29  مئی‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ فیسوں کی ادائیگی نہ ہونے سے نجی تعلیمی ادارے شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کو اگلے درجات میں ترقی دے دی گئی ہے جبکہ نویں تا بارہویں کے طلبہ و طالبات کو پرموٹ تو کردیا گیا ہے البتہ اس

سلسلے میں قانون میں ترامیم کی جانی ہے،جس پر کام کیا جارہا ہے۔ہم اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں البتہ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے دفتر میں کیتھولک ایجوکیشن بورڈ آف کراچی کے وائس چیئرمین فادر صالح ڈائیگو کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی نوید انتھونی بھی موجود تھے،جبکہ وفد میںانتھونی ڈی سلوا، شمیم خورشیف، افضل جیکب، لینی ڈائس، مس ریٹا چارلس اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر فادر صالح ڈائیگو نے وزیر تعلیم کو کرونا وائرس کے بعد کی صورتحال میں تعلیم کے حوالے سے ان کے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب بھی یہی چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس وائرس میں مبتلا نہ ہوں اور اس کے لئے اب یہ ضروری ہے کہ سماجی دوری کو بنائے رکھا جائے۔فادر صالح نے کہا کہ کیتھولک ایجوکیشن بورڈ آف کراچی کے زیر انتظام چلنے والی اسکولز تمام حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی اس وائرس کے باعث بندش سے بورڈ کے زیر انتظام چلنے والے ادارے بھی مالی بحران کا شکار ہیں اس لئے سندھ یا وفاقی حکومت اس حوالے سے ان تعلیمی اداروں کی ناصرف مالی مدد کرے بلکہ ان

تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے والدین کو فیسوں کی ادائیگی کے لئے زور دے۔فادر صالح نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے سے بچوں میں اس وائرس کے پھیلنے کے خدشات ہیں لیکن اگر اس طرح کی ایس او پیز بنائی جائیں کہ ہر کلاس روزانہ کی بجائے کم از کم ہفتہ میں دو بار دنوں کی تقسیم سے کھولی جاسکیں کیونکہ جب تک فزیکلی بچہ تعلیمی ادارے میں نہیں آئے گا

والدین فیسوں کی ادائیگی میں سنجیدہ نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ فیسوں کی ادائیگی نہ ہونے سے نجی تعلیمی ادارے شدید مالی بحران سے دوچار ہیں اور اسی لیئے ہم نے والدین سے متعدد بار استدعا کی ہے کہ وہ بچوں کی فیس لازمی جمع کروائیں۔سعید غنی نے کہا کہ ہم اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کا رسک نہیں لے سکتے۔اگر اسکول انتظامیہ نے

ایس او پیز پر عملدرآمد بھی کرلیا تو بچے اسکول وین میں ہی آتے ہیں وہاں ایس او پیز پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو بلا سود قرضے اور ان کی مالی معاونت کی پوزیشن میں سندھ حکومت نہیں ہے البتہ وفاق چاہے تو ایسا کرسکتی ہے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کو اگلے درجات میں ترقی دے دی گئی ہے جبکہ نویں تا بارہویں کے طلبہ و طالبات کو

پرموٹ تو کردیا گیا ہے البتہ اس سلسلے میں قانون میں ترامیم کی جانی ہے،جس پر کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیںاس حوالے سے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس بلا کر نئے تعلیمی سال سمیت دیگر امور پر مشاورت کرکے اعلان کیا جائے گا۔سعید غنی نے کہا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے بچوں کے حوالے فارمولے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جلد اس حوالے سے سب کو آگاہ کردیا جائے گا۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…