جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کروناوائرس کی وباء کم تباہی مچا رہی تھی کہ پاکستان میں ایک اور وائرس لیشمینیا پھوٹ پڑا ،وار سے سینکڑوں بچے متاثر ہو گئے ، عوام میں خوف ہراس پھیل گیا

datetime 19  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں کرونا وائرس کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں ، مریضوں کی تعداد میں ہر روز ہوشربا اضافہ سامنے آتا جارہا ہے ، افسوسناک حد تک ہلاکتیں بھی رپورٹ ہو رہی ہیں ۔کرونا وائرس کیساتھ ساتھ جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر لیشمینیاء وائرس نامی وباء نے سینکڑوں لوگوں جن میں معصوم بچے اور بچیاںپر حملہ کر دیا ، شدید متاثر کر دیا ۔ جنوبی وزیر ستان کے رہائشی حیات اللہ نے بتایا کہ

لیشمینیا نامی بیماری نے جنوبی وزیرستان میں دوبارہ سر سر اٹھا لیا ہے جبکہ یہ بیماری اپریل 2019ءمیں سامنے آئی تھی جس کی وجہ جب آپریشن شروع کیا تو لوگ نقل مکانی کر کے ژوب چلے گئے تھے آپریشن ختم ہوا تو وہاں سے واپس آنے والے لوگ یہ بیماری ساتھ لائے تھے ۔انہیں وہاں پر کسی لیشمینیا نامی کسی مچھر نے کاٹا تھا۔ان کا مزید بتانا تھا کہ یہ بیماری مختلف علاقوں تحصیل سرویکِی اور تحصیل سراروغہ کی مختلف آبادیوں جسمیں چغملائی، سپلاتوئی، بروند، ماولے خان سرائے اور کوٹکئی، سپنکئی راغزاے سمیت میں ایک وبائی شکل اختیار کرگئی ہے۔یہاں اس بیماری کے حوالے سے خیبرپختونخواہ حکومت نے کوئی بہتر پالیسی اختیار نہیں کی جس کی وجہ سے یہان یہ وباء دوبارہ پھوٹ پڑی ہے ۔ لیشمینیا مچھر کےکاٹنے سے بھی یہ بیماری لگتی ہے۔ اس وائرس سے متعلق لوگوں میں آگاہی فراہم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کیلئے گھریلو ٹوٹکے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں ، اگر کسی مریض کی بے احتیاطی کی وجہ سے اس کا زخم گہرا ہو ا تو اس سے خون کی رگیں کٹ سکتی ہیںاور یہ کینسر کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے جس کی وجہ سے موت واقع ہو جاتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس بیماری کی طرف توجہ نہ دی گئی تو یہ پاکستان بھر میں پھیل سکتی ہے اس کا واحد حل یہ ہے کہ نا صرف وزیرستان بلکہ ملک بھر میں مچھر کیخلاف سپرے کیا جائے تاکہ مچھر کی افزائش نسل کو جڑ سے ختم کیا جا سکے ۔ جنوبی وزیرستان کے ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ اس کا علاج تو آسان ہے لیکن مریض کیلئے انتہائی تکلیف کا باعث بنتی ہے کیونکہ انجکشن زخم والی جگہ لگاپڑتا ہے ، بعض مریضوں کو یہ زخم ناک، کان اور ہونٹوں یا گال پر ہوتے ہیں۔ اس بیماری کیلئے ملٹیسفورین نامی ایک کیپسول بہت مفید ہے اور اس میں مریض ٹیکہ لگنے کی تکلیف سے بھی بچ جاتا ہے۔ لیکن یہ ملٹیسفورین کیپسول اب ہمارے پاس دستیاب نہیں ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…