اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

قرض ریلیف کے حوالے سے حکومت کے دعوے جھوٹے ہیں،پاکستان جی ٹوئنٹی ممالک قرض ریلیف پروگرام میں ناکام رہا ،وفاق نے سرکاری طور پر کیا کام نہیں کیا تھا، دھماکہ خیز دعویٰ

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

اسلا م آباد (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری مالیات حیدر زمان قئریشی نے کہا ہے کہ قرض ریلیف کے حوالے سے حکومت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ G-20 ممالک قرض ریلیف پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان G-20 ممالک قرض ریلیف پروگرام میں ناکام رہا کیونکہ اسلام آباد نے G-20ممالک کو ادائیگی میں نرمی کے لئے سرکاری طور پر درخواست ہی نہیں دی تھی۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے نہ تو G-20ممالک کو درخواست دی اور نہ ہی G-10ممالک نے اس سلسلے میں کوئی اعلان کیا ہے۔ اس لئے ریلیف کا معاملہ گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف وہ ممالک ہی ریلیف حاصل کرسکیں گے جنہوں نے وقت پر G-20ممالک کی میٹنگ سے پہلے ریلیف کی درخواستیں دی تھیں۔ حیدر زمان قریشی نے کہا کہ اگر پاکستان درخواست دیتا بھی اوردرخواست منظور ہو جاتی تو پاکستان کو 1.5ارب ڈالر تک ریلیف مل سکتا تھا ۔ اس سلسلے میںاسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کے مابین لڑائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ G-20ممالک نے صرف مئی سے لے کر دسمبر 2020تک کی ادائیگیوں کو منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا اور شرط یہ تھی کہ ہر ملک باضابطہ قرج ریلیف کے لئے درخواست دائر کرے گا مگر اسلام آباد نے ابھی تک G-20 ممالک سے قرض ریلیف کی درخواست ہی نہیں دی۔ حیدر زمان قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت صرف ٹی وی پر تقریریں کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے پھیلائی جانے والی جعلی خبر کو آئی ایم ایف نمائندے ٹریسہ دبن سانچز نے بھی رد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے معیشت سے متعلق انتہائی اہمیت کے حامل عملی اقدامات نہیں لئے جا رہے ہیں۔ معاشی بدحالی اور غلط پالیسیوں نے تحریک انصاف کی حکومت کی ساکھ کو بری طرح مجروح کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی طرف سے “ہارٹ فارن رقوم ” کی حوصلہ افزائی پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ یہ رقم 3.4ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، مارکیٹ میں گھبراہٹ اور دبا کی وجہ سے 2.6 ارب ڈالر کا “ہارٹ فارن سرمایہ رقوم” واپس چلا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…