اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی کھپت اور قیمتوں میں کمی ،کاشتکاروں اور زمینداروں نے بھی حکومت سے ریلیف پیکیج مانگ لیا

datetime 20  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کورونا وائرس کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی کھپت اور قیمتوںمیںکمی کے بعد کاشتکاروں اور زمینداروںنے بھی حکومت سے ریلیف پیکیج مانگتے ہوئے ایک سال کیلئے آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس میںچھوٹ کا مطالبہ کردیا ہے ۔ملیر فریش فروٹ مرچنٹس اینڈ گرویئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد جاوید کے مطابق کورونا وائرس کے باعث صنعتی اور دیگر شعبہ جات کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے ،

تاہم حکومت کی جانب سے صنعتوں اور دیگر شعبہ جات کیلئے ریلیف کی فراہمی کے اعلانات میں زرعی شعبے کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے جس سے کاشتکاروں اور زمینداروں کو شدید مایوسی ہوئی ہے ۔محمد جاوید نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث ایک طرف جہاں سبزیوں اور پھلوںکی مقامی کھپت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ،وہیں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث کاشتکاروں اور زمینداروں کو اپنی کھڑی فصلوںکی ترسیل میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،اندرون سندھ بیشتر زرعی علاقوںمیںکاشتکاروںنے اپنی کھڑی فصلوں پر ٹریکٹر چلا دیئے اور سبزی و پھلوںکی بڑ ی مقدار کو ضائع کردیا گیا ۔محمد جاوید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک میں بھی کورونا وائرس اور جزوی لاک ڈاؤن کے باعث کاشتکاروں اور زمینداروں کو ممکنہ نقصان کا اندیشہ ہے ،لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ کاشتکارو ں اور زمینداروں کیلئے بھی ریلیف پیکیج کا اعلان کی جائے جس میں ایک برس کیلئے آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی چھوٹ کے ساتھ ساتھ فصلوں پر چھڑکاؤ کیلئے استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات کی قیمتوںمیں بھی نمایاں کمی کی جائے ،انہوںنے کمشنر کراچی سے سبزی منڈی کے اوقات کار میںاضافے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اس وقت سبزی منڈی رات بارہ سے دن بارہ بجے تک کھولنے کے احکامات ہیں،تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ رمضان المبار کے باعث سبزی منڈی کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے کیونکہ اس وقت سبزی منڈی میںلوگوں کا بے تحاشا رش ہے جس کے نتیجے میںکورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے اقدامات متاثر ہوسکتے ہیں،سبزی منڈی کے اوقات کار میںاضافے کے نتیجے میںدکاندار اور عوام سہولت کے ساتھ سبزی منڈی آسکیںگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…