’’پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین کا گروپ اپنے انجام کو پہنچا‘‘ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کو کس آدمی سمجھا جانے پر ہٹایا گیا،وہ کس کے فائدے میں برابر کے ملوث نکلے؟تہلکہ خیز انکشافات

  منگل‬‮ 7 اپریل‬‮ 2020  |  19:12

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار انصار عباسی اپنے کالم ’’وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین نے انکے ساتھ بیوفائی کی‘‘میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔وزیراعظم عمران خان محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے انتہائی قریبی ساتھی جہانگیر ترین نے ان کے ساتھ بے وفائی کی ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے باوجود کارکردگی دکھانے کیلئے انہیں پی ٹی آئی حکومت میں نائب وزیراعظم کا غیر رسمی کردار دیدیا گیا تھا۔ جہانگیر ترین کو غیر رسمی طور پر بہت زیادہ اختیارات دیے گئے تھے کہ وہ زرعی شعبے میں اصلاحات لائیں، کابینہ میں اور وفاقی حکومت


اور پنجاب حکومت کی سطح پر بیوروکریسی میں اپنی پسند کے لوگ بھرتی کریں لیکن نتیجہ نہ صرف ناکامیوں کی صورت میں سامنے آیا بلکہ گندم اور چینی کے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آئے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین نے مکمل طور پر عمران خان کو مایوس کیا ہے، اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے غلط گھوڑے پر داؤ کھیلا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اور بیوروکریسی میں حالیہ رد و بدل پی ٹی آئی اور حکومت میں موجود ہر شخص کیلئے مکمل طور پر ایک پیغام ہے کہ جہانگیر ترین اور ان کا اثر رسوخ آؤٹ ہو چکا ہے۔ان تبدیلیوں سے، پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین کا گروپ اپنے انجام کو پہنچا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کو جہانگیر ترین کا آدمی ہونے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔ رزاق داؤد کو ’’گینگ کا حصہ‘‘ نہیں سمجھا جاتا لیکن وزیراعظم کی رائے ہے کہ انہوں نے چینی مافیا کے فائدے کیلئے یہ سب کچھ ہونے دیا۔ خسرو بختیار اور ان کے چھوٹے بھائی جو پنجاب میں وزیر خزانہ ہیں، کا چینی اسکینڈل میں کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔ جس وقت خسرو بختیار چینی کے معاملے پر ہونے والے ای سی سی اور کابینہ کے اجلاس سے چلے جاتے تھے، اسی وقت ان کے بھائی پنجاب کے وزیر خزانہ نے چینی مل مالکان کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کی تحریری مخالفت کی تھی۔ اس مخالفت کے باوجود، پنجاب کے وزیراعلیٰ نے چینی پیدا کرنے والوں کیلئے سبسڈی کی منظوری دی۔ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ بھی پیر کے دن ہوا وہ حالات کا نقطہ عروج تھا۔ لیکن ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ 25؍ اپریل کے بعد بہت کچھ ہونا باقی ہے کیونکہ شوگر کمیشن اُس دن شوگر مافیا کے کام کرنے کے انداز کے متعلق اپنی رپورٹ جمع کرائے گا۔ فوجداری کارروائیاں ہوں گی، ممکنہ طور پر گرفتاریاں بھی اور ساتھ میں ایف بی آر، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان وغیرہ جیسے اداروں کی کارروائیاں بھی۔ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کو شوگر مافیا کی طرف سے پیغام دیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے شوگر کمیشن کی جاری تحقیقات کا سلسلہ فوری طور پر نہ روکا تو ملک میں چینی کا بحران آ سکتا ہے۔ تاہم، وزیراعظم نے شوگر مافیا کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ’’بیل کو سینگوں سے پکڑنے‘‘ (صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے) کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ سال 7؍ مئی کو دی نیوز نے خبر شائع کی تھی کہ جہانگیر ترین بربنائے عہدہ ڈپٹی پرائم منسٹر بن کر سامنے آئے ہیں۔


موضوعات: