جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کی تشخیص، علاج اور ویکسین کی تیاری میں اہم پیش رفت، پاکستان کی اہم یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے کمال کر دیا

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی سربراہی میں کام کرنے والی ریسرچ ٹیم نے نوول کورونا وائرس 2019ء میں مقامی طور پر ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ لگالیا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ وائرس میں مقامی حالات کے باعث جینیاتی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور یہ عمل ابھی جاری ہے جینیاتی تبدیلیوں کا سلسلہ ترتیب معلوم ہونے سے کورونا کی تشخیص،علاج اور ویکیسن کی تیاری میں مدد ملے گی

اس لحاظ سے اس مقامی طور پر پھیلنے والے وائرس کے جینوم سیکیوینس کا پتہ لگا نا ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے ریسرچ کا عمل ابھی جاری ہے اس کی تکمیل میں کچھ وقت درکار ہے ڈا یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کے جینیوم سیکیوینس کا سلسلہ ترتیب معلوم کرنے کیلییمقامی طور پر کورونا سے متاثر ہونے والے پندرہ سالہ لڑکے سے وائرس لے کراس کا تجزیہ کیا گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کا سلسلہ ترتیب معلوم کرنا انتہائی اہم پیش رفت ہے جس سے ویکسین بنانے اور علاج میں بڑی مدد ملے گی تاہم یہ ریسرچ کا ابتدائی مگر بہت اہم مرحلہ ہے ابھی تحقیق کے کئی مراحل باقی ہیں واضح رہے کہ ڈا یونیورسٹی لیب ملک کی اولین لیب ہے جہاں کرونا وائرس کے لئے پی سی آر ٹیسٹ متعارف کرایا گیا ڈا یونیورسٹی کی جدید آلات سے آراستہ بی ایس ایل تھری وائرولوجی لیب کو استعمال کرتے ہوئے وائرس کے نمونے اس کا آر این اے علیحدہ کیا گیا اور پی سی آر کے ذریعے وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا گیا یہ وائرس مقامی طور پر پندرہ سالہ لڑکے میں منتقل ہوا لیکن تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس سعودی عرب کے راستے پاکستان منتقل ہوا اور پہلے ہی مرحلے پر ایک ہی خاندان کے پندرہ افراد کو متاثر کیا جس سے پتہ چلتا ہے یہ مقامی طور پر بہت تیزی سے پھیلتا ہے سلسلہ ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وائرس کی جینیاتی ترتیب ووہان وائرس معمولی مختلف ہے اور اس میں کچھ جینیاتی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں اس وائرس نے چین میں جنم لیا اور سعودی عرب کے راستے پاکستان منتقل ہوا مزید برآں یہ بھی واضح رہے کہ یہ ایک ابتدائی تحقیق کا کیس ہے جبکہ ڈا یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیم ان تما م نمونوں کے تجزیے میں مصروف ہے

جو دوسرے ممالک بہ شمول ایران، عراق اور شام برطانیہ و امریکا سے پاکستان منتقل ہوئے اور یہ ریسرچ ابھی جاری ہے۔ڈا یونیورسٹی کی جدید آلات سے آراستہ لیب اب تک سیکڑوں لوگوں کے مفت کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرچکی ہے اور یہ سلسلہ یونہی تیزی کے ساتھ جاری ہے ماہرین کے مطابق سیکڑوں نمونوں کے تجزیے کے بعد بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ ریسرچ ابھی جاری ہے جینیوم سیکیو ینسنگ میں آئی سی سی بی ایس کراچی یونیورسٹی سے مدد لی گئی یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈا یونیورسٹی وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی سربراہی میں نہ صرف طبی اور تشخیصی خدمات انجا م دے رہی ہے بلکہ تحقیق کے شعبے میں بھی پیش پیش ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…