جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

حکومتی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کو جرمانہ اور قید ،پنجاب میں پریوینشن اور کنٹرول آرڈیننس 2020 نافذ

datetime 31  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور( آن لائن )صوبائی حکومت نے پنجاب انفیکشیئس ڈیزیز (پریوینشن اور کنٹرول) آرڈیننس 2020 نافذ کردیا جس کے تحت سول انتظامیہ اور محکمہ صحت قانون کی معاونت سے وبا کو روکنے کے اقدامات کرسکیں گے۔ آرڈیننس کے تحت بغیر کسی مناسب جواز کے حکومتی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد اور قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

جرمانہ کی رقم 50 ہزار روپے تک جبکہ قید کی مدت 2 ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔تاہم اگر کوئی شخص متعدد مرتبہ جرم کا ارتکاب کرے تو اسے 6 ماہ تک کی قید اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔آرڈیننس کے مطابق اس قسم کا جرم اگر کوئی ادارہ کرے گا تو پہلی دفعہ کا جرمانہ 50 ہزار روپے سے کم اور 2 لاکھ روپے سے زائد نہیں ہوگا جبکہ متعدد مرتبہ جرم کے ارتکاب پر جرمانے کی رقم ایک لاکھ روپے سے کم اور 3 لاکھ روپے سے زائد نہ ہوگی یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔آرڈیننس کے مطابق ایک فرد جرم کا مرتکب اس وقت قرار پائے گا جب وہ کسی مناسب جواز کے بغیر ہدایات، احکامات پر عمل یا اس پر عائد پابندی کا احترام نہ کرے، یا نابالغ سے متعلق اس پر عائد فرض کی انجام دہی پر ناکام ہوجائے، یا جواز پوچھے جانے پر غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرے یا کسی ایسے شخص کی راہ میں رکاوٹ حائل کرے جو اپنا اختیار استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہو۔قرنطینہ کے حوالے سے آرڈیننس میں کہا گیا کہ قرنطینہ کیا گیا کوئی شخص اگر فرار ہونے کی کوشش کرے تو پہلی دفعہ جرم پر اسے 6 ماہ تک کی قید یا 50 ہزار روپے کا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

تاہم اگر وہ متعدد مرتبہ جرم کا ارتکاب کرتا ہوا پایا گیا تو 18 ماہ تک کی قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔آرڈیننس میں کہا گیا کہ پرائمری اور سیکنڈری پیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری وزیراعلی سے مشاورت کے بعد پنجاب کے کسی بھی علاقے میں تمام رجسٹرڈ معالجین اور صحت سہولیات پر ڈیوٹی لگا سکتے ہیں۔اسی طرح حکومت یا ضرورت پڑنے پر بلدیاتی حکومت کے ایک یا ایک سے زائد سرکاری ملازمین اور افسران کو عوام کو لاحق صحت کے خطرات کو کنٹول کرنے اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔آرڈیننس میں کہا گیا کہ یہ ایک خاندان کے سربراہ، طبی ماہر یا کوئی ایسا شخص جسے معلوم ہو کہ اس کے زیر نگرانی فرد کسی متعدی بیماری میں مبتلا ہے، ان سب سمیت ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے کیسز کے بارے میں فوری طور پر میڈیکل افسر کو آگاہ کرے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…