منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اورنج لائن ٹرین منصوبے کے نام پر درختوں کی کٹائی ، پیش نہ ہونے پرکیوں نہ ڈی جی پی ایچ اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جائیں، عدالت کے ریمارکس

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے نام پر درختوں کی کٹائی کے خلاف دائر درخواست پر ٹرین کیلئے ٹرانسمیشن لائن بچھانے سے روکنے کے حکم امتناعی میں 6مارچ تک توسیع کرتے ہوئے ڈی جی پی ایچ اے کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے درخواست پر سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ افسرقوانین سے آگاہ ہیں پھربھی کمروں میں بیٹھ کردرخت کاٹنے کاحکم دے کر قانون کونظراندازکرتے ہیں ۔ فاضل عدالت نے ڈی جی پی ایچ کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پیش نہ ہونے پرکیوں نہ ڈی جی پی ایچ اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے جائیں۔ دوران سماعت محکمہ ماحولیات کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کیلئے بلااجازت درخت کاٹنے پرلاہور الیکٹر ک سپلائی کمپنی کوشوکاز نوٹس بھجوا دیا ہے ،قانونی طریق کار نظر انداز کرنے پرمحکمہ جنگلات اور پی ایچ اے کوبھی شوکاز بھجوا گیا ہے ۔ چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے تینوں محکموں کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کیلئے محکمہ ماحولیات کے پاس پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 6مارچ تک ملتوی کر دی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…