منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

2 شہریوں کی برآمدگی کی درخواست،لاہور ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا کو بڑا ریلیف فراہم کردیا

datetime 24  فروری‬‮  2020 |

لاہور(آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا سے 2 شہریوں کی برآمدگی کی درخواست خارج کر دی ہے۔جسٹس انوار الحق پنوں نے شہری محمد حسن کی درخواست پر سماعت کی جس میں شہری حسن نے ابراہیم مانیکا سمیت دیگر کو فریق بنا کر الزام لگایا کہ ان کے دوبھائیوں کو پولیس کی مدد سے اغوا کروایا گیا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کی اہلیہ بشری بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا عدالت کے طلب کرنے پرپیش ہوئے۔تھانہ ہئیر پولیس نے عدالت کے روبرو جواب جمع کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ دونوں نامزد ملزمان کیخلاف امانت میں خیانت کا مقدمہ درج ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ ملزمان کیخلاف کب مقدمہ درج ہوا جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ بیس فروری کو۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابراہیم مانیکا کو عدالتی نوٹس کے بعد ہمیں بھائیوں کو ٹکڑوں میں ملنے کا فون آیا، پولیس نے احمد حسن کو تین فروری کو گھر سے اٹھایا،اعجاز احمد پراپرٹی ڈیلر کو پولیس نے 11 دسمبر 2019 کو اٹھایا۔عدالت نے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ اس کیس میں ابراہیم مانیکا کا کیا کردار ہے۔۔وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ابراہیم مانیکا نے ہمیں 10 لاکھ روپے سرمایہ کاری کیلئے دیئے تھے، سرمایہ کاری کی رقم سے خریدی گئی جائیداد ابھی فروخت نہیں ہوئی تھی کہ ابراہیم مانیکا نے رقم کا تقاضا شروع کر دیا، ابراہیم مانیکا کے والد نے بھی رقم کا تقاضا کیا اور پولیس کے ذریعے دبائو ڈالا۔وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ابراہیم مانیکا کے والد نے رقم لینے کیلئے جس ڈالے پر بندوں کو بھیجا تو وہ ڈالا الٹ گیا جس کا نقصان بھی درخواستگزار کے بھائیوں پر ڈال دیا۔

ابراہیم مانیکا کو ڈالا مرمت کروا کر دیا اور ایک گاڑی بھی کرائے پر لیکر دی جو ابھی بھی انکے گھر میں زیر استعمال ہے۔جسٹس انوارالحق پنوں نے درخواست گزار وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو اس درخواست میں متعلقہ پولیس کو فریق ہی نہیں بنایا،وکیل نے بتایا کہ ہمیں تو علم ہی نہیں تھا کہ درخواستگزار کے بھائی کس پولیس کے پاس ہیں، عدالت کہا کہ اب مقدمہ درج ہو چکا ہے آپ اب جا کر ضمانت کروائیں۔عدالت نے مغوی احمد حسن اور اعجاز کیخلاف مقدمہ امانت میں خیانت کا مقدمہ درج ہونے کی بنیاد پر درخواست خارج کر دی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…